سنن ترمذي
كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تقدیر کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الإِيمَانِ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ باب: اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2144
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ عُبَادَةَ ، وَجَابِرٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لے آئے ، اور یہ یقین کر لے کہ جو کچھ اسے لاحق ہوا ہے چوکنے والا نہ تھا اور جو کچھ چوک گیا ہے اسے لاحق ہونے والا نہ تھا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف عبداللہ بن میمون کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- عبداللہ بن میمون منکر حدیث ہیں ، ۳- اس باب میں عبادہ ، جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔