سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 214
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ , وَأَنَسٍ , وَحَنْظَلَةَ الْأُسَيِّدِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں ، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں جابر ، انس اور حنظلہ اسیدی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 233 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ’’پانچ نمازیں، جمعہ سے اگلے جمعہ تک، رمضان اگلے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں جب کہ انسان کبیرہ گناہوں سے بچے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:552]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
انسان سے مختلف قسم کے گناہ اور قصور سرزد ہوتے رہتے ہیں، اس لیے مختلف گناہوں کے لیے مختلف قسم کی عبادات کفارہ بنتی ہیں، کچھ وضو سے معاف ہوتے ہیں، کچھ کا کفارہ نماز بنتی ہے اور بعض گناہ جمعہ سے معاف ہوتے ہیں، بعض کی بخشش روزے سے ہوتی ہے، اسی طرح اور عبادات ہیں، لیکن کبیرہ گناہوں کی آلودگی اور نجاست اس قدر غلیظ ہوتی ہے اور اس کے قبیح اثرات اس قدر گہرے اور پختہ ہوتے ہیں جن کا ازالہ صرف تو بہ واستغفار سے ہو سکتا ہے۔
ہاں اگر اللہ تعالیٰ کسی پر خصوصی رحم فرما کر یونہی معاف کر دے، تو اس کا فضل وکرم انتہائی وسیع ہے، وہ کسی کا پابند نہیں ہے۔
قرآن مجید میں ہے: ’’اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے، تو ہم تم سے تمہاری چھوٹی برائیاں دور کر دیں گے۔
‘‘ (النِّساء: 31)
انسان سے مختلف قسم کے گناہ اور قصور سرزد ہوتے رہتے ہیں، اس لیے مختلف گناہوں کے لیے مختلف قسم کی عبادات کفارہ بنتی ہیں، کچھ وضو سے معاف ہوتے ہیں، کچھ کا کفارہ نماز بنتی ہے اور بعض گناہ جمعہ سے معاف ہوتے ہیں، بعض کی بخشش روزے سے ہوتی ہے، اسی طرح اور عبادات ہیں، لیکن کبیرہ گناہوں کی آلودگی اور نجاست اس قدر غلیظ ہوتی ہے اور اس کے قبیح اثرات اس قدر گہرے اور پختہ ہوتے ہیں جن کا ازالہ صرف تو بہ واستغفار سے ہو سکتا ہے۔
ہاں اگر اللہ تعالیٰ کسی پر خصوصی رحم فرما کر یونہی معاف کر دے، تو اس کا فضل وکرم انتہائی وسیع ہے، وہ کسی کا پابند نہیں ہے۔
قرآن مجید میں ہے: ’’اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے، تو ہم تم سے تمہاری چھوٹی برائیاں دور کر دیں گے۔
‘‘ (النِّساء: 31)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 233 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 233 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’پانچ نمازیں، جمعہ اگلے جمعہ تک درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کبائر کا ارتکاب نہیں کیا جاتا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:550]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: مَا لَمْ تُغْشَ: غشيان کا اصل معنی ’’کسی کے پاس آنا ہے‘‘ کہتے ہیں: "غَشِيَ فُلَانًا" ’’فلاں کے پاس آیا‘‘ یہاں مقصد گناہوں کا ارتکاب ہے، جس کو آگے اجتناب الکبائر، بڑے گناہوں سے بچنا سے تعبیر کیا گیا ہے۔
: مَا لَمْ تُغْشَ: غشيان کا اصل معنی ’’کسی کے پاس آنا ہے‘‘ کہتے ہیں: "غَشِيَ فُلَانًا" ’’فلاں کے پاس آیا‘‘ یہاں مقصد گناہوں کا ارتکاب ہے، جس کو آگے اجتناب الکبائر، بڑے گناہوں سے بچنا سے تعبیر کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 233 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1086 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جمعہ کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1086]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1086]
اردو حاشہ:
فائدہ: (1)
صغیرہ گناہ نیکیوں کی برکت سے معاف ہوجاتے ہیں۔
(2)
کبیرہ گناہ صرف توبہ سے معاف ہوتےہیں۔
(3)
بعض کبیرہ گناہ ایسے ہوتے ہیں۔
کہ ان کی موجودگی میں نیک اعمال کرنے کے باوجود صغیرہ گناہ معاف نہیں ہوتے۔
فائدہ: (1)
صغیرہ گناہ نیکیوں کی برکت سے معاف ہوجاتے ہیں۔
(2)
کبیرہ گناہ صرف توبہ سے معاف ہوتےہیں۔
(3)
بعض کبیرہ گناہ ایسے ہوتے ہیں۔
کہ ان کی موجودگی میں نیک اعمال کرنے کے باوجود صغیرہ گناہ معاف نہیں ہوتے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1086 سے ماخوذ ہے۔