حدیث نمبر: 2135
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ أَمْرٌ مُبْتَدَعٌ أَوْ مُبْتَدَأٌ أَوْ فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ، فَقَالَ : " فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، وَأَنَسٍ ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جو عمل ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ، وہ نیا شروع ہونے والا امر ہے یا ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے ؟ ۱؎ آپ نے فرمایا : ” ابن خطاب ! وہ ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے ، اور ہر آدمی کے لیے وہ امر آسان کر دیا گیا ہے ( جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ) ، چنانچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بدبختوں میں سے ہے وہ بدبختی والا کام کرتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں علی ، حذیفہ بن اسید ، انس اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی جو عمل ہم کرتے ہیں کیا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم میں آتا ہے؟ یا وہ پہلے سے لکھا ہوا ہے اور اللہ کے علم میں ہے؟۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2135
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ظلال الجنة (161 - 167)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3111

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اچھی اور بری تقدیر (قسمت) کا بیان۔`
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو عمل ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، وہ نیا شروع ہونے والا امر ہے یا ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے؟ ۱؎ آپ نے فرمایا: ابن خطاب! وہ ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہ امر آسان کر دیا گیا ہے (جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے)، چنانچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بدبختوں میں سے ہے وہ بدبختی والا کام کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب القدر/حدیث: 2135]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جوعمل ہم کرتے ہیں کیا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم میں آتا ہے؟ یا وہ پہلے سے لکھا ہوا ہے اور اللہ کے علم میں ہے؟۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2135 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3111 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «فمنهم شقي وسعيد» سو ان میں کوئی بدبخت ہو گا اور کوئی نیک بخت (ہود: ۱۰۵)، نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے نبی! پھر ہم کس چیز کے موافق عمل کریں؟ کیا اس چیز کے موافق عمل کریں جس سے فراغت ہو چکی ہے (یعنی جس کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے)؟ یا ہم ایسی چیز پر عمل کریں جس سے ابھی فراغت نہیں ہوئی ہے۔ (یعنی اس کا فیصلہ ہمارا عمل دیکھ کر کیا جائے گا) آپ نے فرمایا: عمر! ہم اسی چیز کے موافق عمل کرتے ہیں جس سے فراغت ہو چکی ہے۔ (اور ہمارے عمل سے پہلے) وہ چیز ضبط تحریر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3111]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت (ہود: 105)

2؎:
ہمارے وجود میں آنے سے پہلے ہی سب کچھ لکھا جا چکا ہے کہ ہم پیدا ہو کر کیا کچھ کریں گے اور کس انجام کو پہنچیں گے۔

3؎:
نیک کو نیک عمل کی اور برے کو برے عمل کی توفیق دی جاتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3111 سے ماخوذ ہے۔