سنن ترمذي
كتاب الوصايا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَتَصَدَّقُ أَوْ يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ باب: مرتے وقت صدقہ کرنے والے اور غلام آزاد کرنے والے کا بیان۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ، قَالَ : أَوْصَى إِلَيَّ أَخِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَقُلْتُ : إِنَّ أَخِي أَوْصَى إِلَيَّ بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ فَأَيْنَ تَرَى لِي وَضْعَهُ فِي الْفُقَرَاءِ أَوِ الْمَسَاكِينِ أَوِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاهِدِينَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَثَلُ الَّذِي يَعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ ، كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´ابوحبیبہ طائی کہتے ہیں کہ` میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصہ کی میرے لیے وصیت کی ، میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے ملاقات کی اور کہا : میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصہ کی میرے لیے وصیت کی ہے ، آپ کی کیا رائے ہے ؟ میں اسے کہاں خرچ کروں ، فقراء میں ، مسکینوں میں یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں میں ؟ انہوں نے کہا : میری بات یہ ہے کہ اگر تمہاری جگہ میں ہوتا تو مجاہدین کے برابر کسی کو نہ سمجھتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو شخص مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو آسودہ ہونے کے بعد ہدیہ کرتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوحبیبہ طائی کہتے ہیں کہ میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصہ کی میرے لیے وصیت کی، میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے ملاقات کی اور کہا: میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصہ کی میرے لیے وصیت کی ہے، آپ کی کیا رائے ہے؟ میں اسے کہاں خرچ کروں، فقراء میں، مسکینوں میں یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں میں؟ انہوں نے کہا: میری بات یہ ہے کہ اگر تمہاری جگہ میں ہوتا تو مجاہدین کے برابر کسی کو نہ سمجھتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” جو شخص مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو آسودہ ہونے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الوصايا/حدیث: 2123]
نوٹ:
(سند میں ابوحبیبہ لین الحدیث ہیں)
ابوحبیبہ طائی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کچھ دینار اللہ کی راہ میں دینے کی وصیت کی۔ تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی کہ آپ نے فرمایا: ” جو شخص اپنی موت کے وقت غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ و خیرات دیتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص پیٹ بھر کھا لینے کے بعد (بچا ہوا) کسی کو ہدیہ دیدے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3644]
(2) مقصد یہ ہے کہ موت کے وقت صدقہ ثواب کے لحاظ سے صحت کے وقت کے صدقے سے کمتر ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کا کوئی ثواب یا فائدہ نہیں کیونکہ ہر نیکی تو ہر وقت ہی مفید ہے۔
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو مرتے وقت غلام آزاد کرے تو اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی آسودہ ہو جانے کے بعد ہدیہ دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3968]
اگرچہ موت کے قریب تہائی مال تک کا صدقہ یا وصیت کرنا جائز ہے، مگر افضل یہ ہے جیسے کہ صیح بخاری میں ہے: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبیﷺسے پوچھا: اے اللہ کےرسول صدقہ کونسا افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: تواس حال میں صدقہ کرے کہ تو صحت مند ہو حریص ہو (یعنی زندگی اور مال کا) غنی رہنا چاہتا ہوں اور فقیر ہوجانے سے ڈرتا ہواور صدقہ کرنے میں سستی نہ کرے کہ جب جان حلق میں آن اٹکے تو کہنے لگے فلاں کے لئے اتنا ہے اور فلاں کےلئے اس قدر حالانکہ وہ تو(حق وارثت کی وجہ سے) فلاں کا ہوچکا۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: (اہل ایمان دوسرے حاجت مندوں کو) اپنے سے ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خوداحتیاج ہوتی ہے۔