سنن ترمذي
كتاب الوصايا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ لاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ باب: وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَهَنَّادٌ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى لِكُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ التَّابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : وَلَا الطَّعَامَ ، قَالَ : " ذَلِكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا " . ثُمَّ قَالَ : " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ، وَرِوَايَةُ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، وَأَهْلِ الْحِجَازِ لَيْسَ بِذَلِكَ فِيمَا تَفَرَّدَ بِهِ ، لِأَنَّهُ رَوَى عَنْهُمْ مَنَاكِيرَ وَرِوَايَتُهُ ، عَنْ أَهْلِ الشَّامِ أَصَحُّ ، هَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَال : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ ، يَقُولُ : قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ أَصْلَحُ حَدِيثًا مِنْ بَقِيَّةَ ، وَلِبَقِيَّةَ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ عَنِ الثِّقَاتِ ، وَسَمِعْت عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ زَكَرِيَّا بْنَ عَدِيٍّ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ : خُذُوا عَنْ بَقِيَّةَ مَا حَدَّثَ عَنِ الثِّقَاتِ ، وَلَا تَأْخُذُوا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ مَا حَدَّثَ عَنِ الثِّقَاتِ ، وَلَا عَنْ غَيْرِ الثِّقَاتِ .´ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے ، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ، لڑکا ( ولدالزنا ) بستر والے کی طرف منسوب ہو گا ( نہ کہ زانی کی طرف ) ، اور زانی رجم کا مستحق ہے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے ۔ جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسری طرف نسبت کی یا اپنے موالی کے علاوہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا اس پر قیامت کے دن تک جاری رہنے والی لعنت ہو ، کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کھانا بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ ہمارے مالوں میں سب سے بہتر ہے “ ۔ ( یعنی اس کی زیادہ حفاظت ہونی چاہیئے ) پھر آپ نے فرمایا : ” «عارية» ( منگنی ) لی ہوئی چیز واپس لوٹائی جائے گی ، «منحة» ۱؎ واپس کی جائے گی ، قرض ادا کیا جائے گا ، اور ضامن ذمہ دار ہے “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ابوامامہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے ، ۳- اسماعیل بن عیاش کی وہ روایت جسے وہ اہل عراق اور اہل شام سے روایت کرنے میں منفرد ہیں ، قوی نہیں ہے ۔ اس لیے کہ انہوں نے ان سے منکر حدیثیں روایت کی ہیں ، اہل شام سے ان کی روایت زیادہ صحیح ہے ۔ اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا : ۴- احمد بن حنبل کہتے ہیں : اسماعیل بن عیاش حدیث روایت کرنے کے اعتبار سے بقیہ سے زیادہ صحیح ہیں ، بقیہ نے ثقہ راویوں سے بہت سی منکر حدیثیں روایت کی ہیں ، ۵- ابواسحاق فزاری کہتے ہیں : ثقہ راویوں کے سے بقیہ جو حدیثیں بیان کریں اسے لے لو اور اسماعیل بن عیاش کی حدیثیں مت لو ، خواہ وہ ثقہ سے روایت کریں یا غیر ثقہ سے ، ۶- اس باب میں عمرو بن خارجہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۲؎: یعنی ضامن نے جس چیز کی ذمہ داری لی ہے، اس کا ذمہ دار وہ خود ہو گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، لڑکا (ولدالزنا) بستر والے کی طرف منسوب ہو گا (نہ کہ زانی کی طرف)، اور زانی رجم کا مستحق ہے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسری طرف نسبت کی یا اپنے موالی کے علاوہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا اس پر قیامت کے دن تک جاری رہنے والی لعنت ہو، کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے "، عرض کیا گیا: اللہ ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الوصايا/حدیث: 2120]
وضاحت:
1؎:
وہ دودھ والا جانور جو کسی کو صرف دودھ سے فائدہ اٹھانے کے لیے دیا جاتاہے۔
2؎:
یعنی ضامن نے جس چیز کی ذمہ داری لی ہے، اس کا ذمہ داروہ خود ہوگا۔
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: " کہ اللہ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے ۱؎ لہٰذا اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔" [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2870]
تاہم وارث اپنی طرف سے کسی ایک کو ثلث ایک بٹا تین تک دے دیں تو اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔
"عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔ کہا اے اللہ کے رسول اور غلہ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ تو ہمارے افضل مالوں سے ہے۔"
تخریج: (ابوداؤد (3565) ترمذي (670) ابن ماجه (2398) مسند احمد 5/267 مسند طيالسي (1127) المصنف لعبد الرزاق (16621) التمهيد 1/230 بيهقي 4/193-194 شرح السنة 6/204)
معلوم ہوا کہ جب ایسا صدقہ و خیرات جو غلے سے کم قدر و قیمت والا ہو وہ خاوند کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں کر سکتی، تو جو غلہ افضل اموال سے ہے وہ کیسے خرچ کر سکتی ہے۔ [تحفة الاحوذي 3/288]
اگر عورت کو معلوم ہو کہ صدقہ و خیرات کرنے سے مرد روکتا نہیں بلکہ پسند کرتا ہے، تو پھر خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اذا تصدقت المراة من بيت زوجها كان لها به اجر وللزوج مثل ذلك وللخازن مثل ذلك ولا ينقص كل واحد منهم من اجر صاحبه شيئا بما كست ولها بما انفقت»
"جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ کرتی ہے تو اسے اس کا اجر ملتا ہے اور شوہر کو بھی اسی طرح اجر ملتا ہے اور خزانچی کو بھی اس کی مثل اجر ملتا ہے اور ہر ایک دوسرے کے اجر کو کم نہیں کرتا۔ مرد کے لیے اس کی کمائی کا اجر اور عورت کے لیے اس کے خرچ کرنے کا اجر ہے۔" [ترمذي 671 نسائي كبري 2/35]
عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت میں یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب عورت شوہر کے گھر سے خوشی کے ساتھ عطیہ دے اور عطیہ میں اسراف کرنے والی نہ ہو اس کے لیے شوہر کی مثل اجر ہے اور عورت کے لیے وہ ہے جو اس نے اچھی نیت کی اور خازن کو بھی اسی کی مثل اجر ہے۔" [ترمذي 672 نسائي كبري 5/379]
علامہ مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ اس کی شرح میں رقمطراز ہیں۔
«وهذا محمول على اذن الزوج لها بذلك صريحا او دلالة» [تحفة الاحوذي 3/390]
"یہ عورت کے لیے شوہر کی اجازت پر محمول ہے خواہ یہ اجازت صراحۃ ہو یا دلالۃ۔"
مطلب یہ ہے کہ مرد نے عورت کو واضح طور پر خرچ کرنے کی اجازت دے رکھی ہو یا اس کے عمل سے معلوم ہو کہ یہ عورت کے خرچ کرنے پر وہ ناراض نہیں ہوتا۔
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ 4/435 میں یہ قول بھی ہے کہ یہ معاملہ اہل حجاز کی عادت کے موافق ہے۔
ان کی عادت تھی کہ انہوں نے اپنی بیویوں اور نوکروں کو اجازت دے رکھی تھی کہ وہ مہمان نوازی کریں۔
سائل، مساکین اور پڑوسیوں کو کھلائیں، پلائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس اچھی عادت اور عمدہ خصلت پر شوق دلایا ہے۔
لہٰذا عورت کو شوہر کی طرف سے جب اجازت ہو، خواہ یہ اجازت وضاحت کے ساتھ ہو یا کسی اور طریقے سے تو اسے خرچ کرنا چاہیے۔
مرد کی طرح عورت کو بھی اجر ملے گا۔
مرد کو کمائی کرنے کی وجہ سے اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے۔
ہمارے گھروں میں مرد حضرات کی عادت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اور خواتین اللہ کی راہ میں عطیات و صدقات خرچ کرتی رہتی ہیں اور شوہر اس پر ناراض نہیں ہوتے۔
بہرکیف عورت کو شوہر کی اجازت و رضا مندی حاصل کر لینی چاہیے۔ «والله اعلم بالصواب»
https: //urdufatwa.com/view/1/21459