سنن ترمذي
كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَرِثُ الْوَلاَءَ باب: ولاء کا وارث کون ہو گا؟
حدیث نمبر: 2114
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَرِثُ الْوَلَاءَ مَنْ يَرِثُ الْمَالَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ولاء کا وارث وہی ہو گا جو مال کا وارث ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ولاء کا وارث کون ہو گا؟`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ولاء کا وارث وہی ہو گا جو مال کا وارث ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2114]
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ولاء کا وارث وہی ہو گا جو مال کا وارث ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2114]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابن لھیعۃ ضعیف ہیں، اور کوئی شاہد نہیں)
نوٹ:
(سند میں ابن لھیعۃ ضعیف ہیں، اور کوئی شاہد نہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2114 سے ماخوذ ہے۔