سنن ترمذي
كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْمَرْأَةِ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا باب: شوہر کی دیت میں سے بیوی کی وراثت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2110
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : الدِّيَةُ عَلَى الْعَاقِلَةِ ، وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا ، فَأَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ : " أَنْ وَرِّثِ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` دیت عاقلہ ۱؎ پر واجب ہے ، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہو گی ، ( یہ سن کر ) ضحاک بن سفیان کلابی رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھا : ” اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: وہ رشتہ دار جو باپ کی طرف سے ہوں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شوہر کی دیت میں سے بیوی کی وراثت کا بیان۔`
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دیت عاقلہ ۱؎ پر واجب ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہو گی، (یہ سن کر) ضحاک بن سفیان کلابی رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھا: ” اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2110]
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دیت عاقلہ ۱؎ پر واجب ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہو گی، (یہ سن کر) ضحاک بن سفیان کلابی رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھا: ” اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2110]
اردو حاشہ:
1؎:
وہ رشتہ دار جو باپ کی طرف سے ہوں۔
1؎:
وہ رشتہ دار جو باپ کی طرف سے ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2110 سے ماخوذ ہے۔