سنن ترمذي
كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدَّةِ باب: دادی اور نانی کی میراث کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ مَرَّةً : قَالَ قَبِيصَةُ، وقَالَ مَرَّةً : رَجُلٌ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ : جَاءَتِ الْجَدَّةُ أُمُّ الْأُمِّ وَأُمُّ الْأَبِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَتْ : إِنَّ ابْنَ ابْنِي أَوِ ابْنَ بِنْتِي مَاتَ ، وَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنّ لِي فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقًّا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا أَجِدُ لَكِ فِي الْكِتَابِ مِنْ حَقٍّ ، وَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى لَكِ بِشَيْءٍ وَسَأَسْأَلُ النَّاسَ ، قَالَ : فَسَأَلَ النَّاسَ ، فَشَهِدَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَاهَا السُّدُسَ " قَالَ : وَمَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعَكَ ، قَالَ : مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ : " فَأَعْطَاهَا السُّدُسَ " ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى الَّتِي تُخَالِفُهَا إِلَى عُمَرَ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَزَادَنِي فِيهِ مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَلَمْ أَحْفَظْهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَلَكِنْ حَفِظْتُهُ مِنْ مَعْمَرٍ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : إِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَهُوَ لَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا انْفَرَدَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا .´قبیصہ بن ذویب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس ایک دادی یا نانی نے آ کر کہا : میرا پوتا یا نواسہ مر گیا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں میرے لیے متعین حصہ ہے ۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : میں اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں پاتا ہوں اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے تمہارے لیے کسی حصہ کا فیصلہ کیا ، البتہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا ۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھٹا حصہ دیا ، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : تمہارے ساتھ اس کو کس نے سنا ہے ؟ مغیرہ رضی الله عنہ نے کہا : محمد بن مسلمہ نے ۔ چنانچہ ابوبکر رضی الله عنہ نے اسے چھٹا حصہ دے دیا ، پھر عمر رضی الله عنہ کے پاس اس کے علاوہ دوسری دادی آئی ( اگر پہلے والی دادی تھی تو عمر کے پاس نانی آئی اور اگر پہلی والی نانی تھی تو عمر کے پاس دادی آئی ) سفیان بن عیینہ کہتے ہیں : زہری کے واسطہ سے روایت کرتے ہوئے معمر نے اس حدیث میں مجھ سے کچھ زیادہ باتیں بیان کی ہیں ، لیکن زہری کے واسطہ سے مروی روایت مجھے یاد نہیں ، البتہ مجھے معمر کی روایت یاد ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے کہا : اگر تم دونوں ( دادی اور نانی ) وارث ہو تو چھٹے حصے میں دونوں شریک ہوں گی ، اور جو منفرد ہو تو چھٹا حصہ اسے ملے گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قبیصہ بن ذویب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس ایک دادی یا نانی نے آ کر کہا: میرا پوتا یا نواسہ مر گیا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اللہ کی کتاب (قرآن) میں میرے لیے متعین حصہ ہے۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میں اللہ کی کتاب (قرآن) میں تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں پاتا ہوں اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے تمہارے لیے کسی حصہ کا فیصلہ کیا، البتہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2100]
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں قبیصہ اور مغیرہ و ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما وغیرہ کے درمیان انقطاع ہے، اور زہری کے تلامذہ کے درمیان اس حدیث کو زہری سے نقل کرنے میں اضطراب ہے، دیکھیے: ضعیف أبي داود رقم: 497، والإرواء: 1680)
قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نانی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا حصہ مانگنے آئی، تو آپ نے اس سے کہا: کتاب اللہ (قرآن) میں تمہارے حصے کا کوئی ذکر نہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی مجھے تمہارا کوئی حصہ معلوم نہیں، تم لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے اس سلسلے میں معلومات حاصل کر لوں، آپ نے لوگوں سے پوچھا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟ تو محم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2724]
فوائدو مسائل: (1)
جدہ کا لفظ نانی اور دادی دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔
اس واقعے میں دوسری خاتون کا ذکرباپ کی طرف سے جدہ کے لفظ سے کیا گیا ہے۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پہلی خاتون نانی تھیں، دوسری دادی۔
2۔
نانی ہو دادی اس کاحصہ کل ترکے کا چھٹاحصہ ہے بشرطیکہ میت کی ماں موجود ہوں تو یہی چھٹا حصہ ان دونوں میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔