سنن ترمذي
كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
باب مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ باب: بہنوں کی میراث کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ : " مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَجَدَنِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ ، فَأَتَى وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَهُمَا مَاشِيَانِ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ ، فَأَفَقْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي ، أَوْ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي ، فَلَمْ يُجِبْنِي شَيْئًا ، وَكَانَ لَهُ تِسْعُ أَخَوَاتٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176الْآيَةَ " ، قَالَ جَابِرٌ : فِيَّ نَزَلَتْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے آئے ، آپ نے مجھے بیہوش پایا ، آپ کے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی تھے ، وہ پیدل چل کر آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی میرے اوپر ڈال دیا ، میں ہوش میں آ گیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اپنے مال کے بارے میں کیسے فیصلہ کروں ؟ یا میں اپنے مال ( کی تقسیم ) کیسے کروں ؟ ( یہ راوی کا شک ہے ) آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا - جابر رضی الله عنہ کے پاس نو بہنیں تھیں - یہاں تک کہ آیت میراث نازل ہوئی : «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ” لوگ آپ سے ( کلالہ ۱؎ کے بارے میں ) فتویٰ پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئیے : اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے “ ( النساء : ۱۷۶ ) ۔ جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں : یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے آئے، آپ نے مجھے بیہوش پایا، آپ کے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی تھے، وہ پیدل چل کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی میرے اوپر ڈال دیا، میں ہوش میں آ گیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنے مال کے بارے میں کیسے فیصلہ کروں؟ یا میں اپنے مال (کی تقسیم) کیسے کروں؟ (یہ راوی کا شک ہے) آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا - جابر رضی الله عنہ کے پاس نو بہنیں تھیں - یہاں تک کہ آیت میراث نازل ہوئی: «يستفتونك قل الل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2097]
وضاحت:
1؎:
کلالہ وہ میت ہے جس کی اولاد نہ ہو اور نہ ہی والد، صرف بھائی بہن وارث بن رہے ہوں۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کی غرض سے تشریف لائے اس وقت میں بنی سلمہ کے محلے میں بیمار تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں اپنا مال اپنی اولاد ۱؎ کے درمیان کیسے تقسیم کروں؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا: پھر یہ آیت نازل ہوئی: «يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين» ” اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے “ (النساء: ۱۱)۔ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2096]
وضاحت:
1؎:
اگلی روایت جو صحیحین کی ہے اس میں اولاد کی بجائے بہنوں کا تذکر ہ ہے، اور صحیح واقعہ بھی یہی ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کی اس وقت تو اولاد تھی ہی نہیں، اس لیے یہ روایت صحیح ہونے کے باوجود ’’شاذ‘‘ کی قبیل سے ہوئی (دیکھیے اگلی روایت)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو اسواف (مدینہ کے حرم) میں ایک انصاری عورت کے پاس پہنچے، وہ عورت اپنی دو بیٹیوں کو لے کر آئی، اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! یہ دونوں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیٹیاں ہیں، جو جنگ احد میں آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں، ان کے چچا نے ان کا سارا مال اور میراث لے لیا، ان کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا، اب آپ کیا فرماتے ہیں؟ اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! ان کا نکاح نہیں ہو سکتا جب تک کہ ان کے پاس مال نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2891]
شیخ البانی نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
اور مذید فرمایا ہے کہ یہ لڑکیاں ثابت بن قیس کی نہیں ہیں۔
بلکہ سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تھیں۔
جیسا کہ آگے آنے والی روایت میں بھی یہی ہے۔
کہ مذکورہ لڑکیاں حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹیاں تھیں۔
اور اس تقسیم میں اصل مسئلہ 24 سے بنے گا کہ 16 حصے دو تہائی بیٹیوں کے 3 حصے (آٹھواں حصہ) بیوی کا اور باقی 5 حصے چچا کو ملیں گے۔