سنن ترمذي
كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الإِخْوَةِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ باب: حقیقی بھائیوں کی میراث کا بیان۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ : مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ سورة النساء آية 12 وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ ، وَإِنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ ، الرَّجُلُ يَرِثُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ " .´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو «من بعد وصية توصون بها أو دين» ” تم سے کی گئی وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد ( میراث تقسیم کی جائے گی ۱؎ ) “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا ۔ ( اگر حقیقی بھائی اور علاتی بھائی دونوں موجود ہوں تو ) حقیقی بھائی وارث ہوں گے ، علاتی بھائی ( جن کے باپ ایک اور ماں دوسری ہو ) وارث نہیں ہوں گے ، آدمی اپنے حقیقی بھائی کو وارث بناتا ہے علاتی بھائی کو نہیں “ ۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .´اس سند سے بھی` علی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو «من بعد وصية توصون بها أو دين» " تم سے کی گئی وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد (میراث تقسیم کی جائے گی ۱؎) " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا۔ (اگر حقیقی بھائی اور علاتی بھائی دونوں موجود ہوں تو) حقیقی بھائی وارث ہوں گے، علاتی بھائی (جن کے باپ ایک اور ماں دوسری ہو) وارث نہیں ہوں گے، آدمی اپنے حقیقی بھائی کو وارث بناتا ہے علاتی بھائی کو نہیں۔" [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2094]
وضاحت:
1؎:
یعنی: آیت کے سیاق سے ایسا لگتا ہے کہ پہلے میت کی وصیت پوری کی جائے گی، پھرا س کا قرض ادا کیا جائے گا، لیکن رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق پہلے قرض ادا کیا جائے گا، پھر وصیت کا نفاذ ہو گا، یہی تمام علماء کا قول بھی ہے۔
نوٹ:
(متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کا راوی ’’حارث اعور‘‘ ضعیف ہے، دیکھیے: الإرواء رقم: 1667)
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت (کے نفاذ) سے پہلے قرض کی ادائیگی کا فیصلہ فرمایا، جب کہ تم (قرآن میں) قرض سے پہلے وصیت پڑھتے ہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الوصايا/حدیث: 2122]
1؎:
اس سے اشارہ قرآن کریم کی اس آیت ﴿مِنْ بَعْدِ َوصِيَّةٍ يُّوصِى بِهَا أَوْ دَيْن﴾ (النساء: 12) کی طرف ہے۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض (کی ادائیگی) کا فیصلہ فرمایا، حالانکہ تم اس کو قرآن میں پڑھتے ہو: «من بعد وصية يوصي بها أو دين» یہ حصے اس وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو، یا ادائے قرض کے بعد (سورۃ النساء: ۱۱) ۱؎ اور حقیقی بھائی وارث ہوں گے، علاتی نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2715]
فوائد و مسائل:
(1)
قرض کی اہمیت وصیت کے مقابلے میں اس لحاظ سے زیادہ ہے کہ قرض زندگی میں بھی واجب الادا ہوتا ہے اور موت کے بعد بھی جبکہ وصیت موت کے بعد ہی قابل عمل ہوتی ہے۔
قرض جتنا بھی ہو ادا کرنا ضروری ہوتا ہے جب کہ وصیت اگر تہائی ترکے سے زیادہ ہو تو تہائی تک قابل عمل ہوتی ہے، زائد نہیں۔
(2)
میت کے مال سے سب سے پہلے کفن دفن خرچ کیا جاتا ہے، پھر قرض ادا کیا جاتا ہے، پھر جو کچھ بچے اس کے تہائی مال یا اس سے کم کی جو وصیت ہو، وہ پوری کی جاتی ہے۔
اس کے بعد باقی ترکہ وارثوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
(3)
آیت میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے وصیت پوری کی جائے پھر قرض ادا کیا جائے بلکہ مطلب یہ ہے کہ دونوں چیزیں واجب ہیں۔
ان میں سے جو چیز پائی جائے وہ ادا کی جائے۔
اگر دونوں (وصیت اورقرض)
موجود ہوں تو ترکے میں سے دونوں کی ادائیگی کرنے کے بعد باقی ترکہ تقسیم کیا جائے۔
علاوہ ازیں وصیت کا ذکر پہلے کرنے میں یہ نکتہ بھی ہوسکتا ہے کہ وصیت پر عمل کرنے کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی کہ قرض تو لوگ زبردستی بھی وصول کرلیتے ہیں۔
وصیت کو پہلے بیان کرکے واضح کردیا کہ اس پر عمل کرنے میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، گو اس پرعمل قرض كى ادائیگی کےبعد ہی کیا جائے گا۔
(4)
میت کے سگے بہن بھائی اس کے سوتیلے بہن بھائیوں پرمقدم ہیں۔
(5)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے اور مزید اس کی بابت لکھا ہے کہ اسی مفہوم کی ایک حدیث حسن درجے کی پہلے گزر چکی ہے، وہ اس کی شاہد ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے فاضل محقق کے نزدیک مذکورہ روایت کی کوئی نہ کوئی اصل ضرورہے۔
علاوہ ازیں بعض محققین نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر حسن درجے تک پہنچ جاتی ہے۔
مزید تفصیل کےلیےدیکھئے: (الإرواء: 6؍107، 109، رقم: 1667)
اس سے معلوم ہوا کہ میت کے مال کی تقسیم میں قرض پہلے ادا کرنا چاہیے، پھر اس کے بعد وصیت کو پورا کرنا چاہیے۔ قرآن کریم میں وصیت کو قرض پر مقدم کیا گیا ہے، اس لیے کہ تاکید مراد ہے، کیونکہ وصیت پوری کرنے میں عموما غفلت کی جاتی ہے۔ حدیث میں قرض کا مقدم ہونا ثابت ہے۔ سیدنا علیرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم آیت میں پڑھتے ہو «مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ» حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض کی ادائیگی کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (سـنـن الترمذی: 2122) امام ترمذی فرماتے ہیں: تمام اہل علم کا یہی موقف ہے کہ وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا۔