حدیث نمبر: 2080
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَانَ يُهْلِكُنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " امْسَحْ بِيَمِينِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، وَقُلْ : أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُوَّتِهِ وَسُلْطَانِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ " ، قَالَ : فَفَعَلْتُ ، فَأَذْهَبَ اللَّهُ مَا كَانَ بِي ، فَلَمْ أَزَلْ آمُرُ بِهِ أَهْلِي ، وَغَيْرَهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے ، اس وقت مجھے ایسا درد تھا کہ لگتا تھا وہ مار ڈالے گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے داہنے ہاتھ سے سات مرتبہ درد کی جگہ چھوؤ اور یہ دعا پڑھو «أعوذ بعزة الله وقدرته وسلطانه من شر ما أجد» ” میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت اور طاقت کے وسیلے سے اس تکلیف کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے لاحق ہے “ ۔ میں نے ویسا ہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے میری تکلیف دور کر دی ، چنانچہ میں ہمیشہ اپنے گھر والوں کو اور دوسروں کو یہ دعا پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2080
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3522)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/السلام 34 (2202) ، سنن ابی داود/ الطب 19 (3891) ، سنن ابن ماجہ/الطب 36 (3522) ( تحفة الأشراف : 9774) ، وط/العین 4 (9) ، و مسند احمد (4/21، 217) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2202 | سنن ابي داود: 3891 | سنن ابن ماجه: 3522

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2202 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ جب سے وہ اسلام لائے ہیں، ان کے جسم میں درد رہتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ’’جسم کے جس حصہ میں درد پاتے ہو، وہاں اپنا ہاتھ رکھ کر، تین دفعہ بسم اللہ کہو اور سات بار کہو، میں اللہ کی ذات اور اس کی قدرت کی پناہ میں آتا ہوں، دم کرتے وقت، اس شر سے جو میں پاتا ہوں اور جس سے میں ڈرتا ہوں۔‘‘... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5737]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، دم کرتے وقت، درد اور تکلیف کی جگہ صرف ہاتھ رکھنا چاہیے اور اگر سارے جسم میں درد ہو تو ہاتھ پھیرنا چاہیے، تاکہ مریض نفسیاتی طور پر بھی متاثر ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2202 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3522 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (دوسروں پر) دم کی دعائیں اور آپ پر کئے جانے والے دم کا بیان۔`
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے ایسا درد تھا کہ لگ رہا تھا وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھ کر «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر» اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں سات مرتبہ پڑھو ، میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء عطا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3522]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
انسان خود بھی مسنون دعایئں پڑھ کر اپنے آپ کو دم کرسکتاہے۔

(2)
صحیح مسلم کی روایت میں ’’بسم اللہ ‘‘ تین بار اور مذکورہ دعا سات بار پڑھنے کا ذکر ہے۔ (صحیح مسلم، السلام، باب استحباب وضع یدہ علی موضع الألم مع الدعاء، حدیث: 2202)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3522 سے ماخوذ ہے۔