سنن ترمذي
كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم— کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي دَوَاءِ ذَاتِ الْجَنْبِ باب: ذات الجنب (نمونیہ) کے علاج کا بیان۔
حدیث نمبر: 2079
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي رَزِينٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، قَال : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَدَاوَى مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْقُسْطِ الْبَحْرِيِّ وَالزَّيْتِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَيْمُونٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، وَقَدْ رَوَى عَنْ مَيْمُونٍ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَذَاتُ الْجَنْبِ يَعْنِي السِّلَّ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ذات الجنب کا علاج قسط بحری ( عود ہندی ) اور زیتون کے تیل سے کریں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ۲- ہم اسے صرف میمون کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ زید بن ارقم سے روایت کرتے ہیں ، ۳- میمون سے کئی لوگوں نے یہ حدیث روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2078 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ذات الجنب (نمونیہ) کے علاج کا بیان۔`
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذات الجنب ۱؎ کی بیماری میں زیتون کا تیل اور ورس ۲؎ تشخیص کرتے تھے، قتادہ کہتے ہیں: اس کو منہ میں ڈالا جائے گا، اور منہ کی اس جانب سے ڈالا جائے گا جس جانب مرض ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2078]
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذات الجنب ۱؎ کی بیماری میں زیتون کا تیل اور ورس ۲؎ تشخیص کرتے تھے، قتادہ کہتے ہیں: اس کو منہ میں ڈالا جائے گا، اور منہ کی اس جانب سے ڈالا جائے گا جس جانب مرض ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2078]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
پسلی کا ورم جو اکثر مہلک ہوتاہے۔
2؎:
ایک زرد رنگ کی خوشبو دار گھاس ہے۔
نوٹ:
(سندمیں میمون ابوعبد اللہ ضعیف راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
پسلی کا ورم جو اکثر مہلک ہوتاہے۔
2؎:
ایک زرد رنگ کی خوشبو دار گھاس ہے۔
نوٹ:
(سندمیں میمون ابوعبد اللہ ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2078 سے ماخوذ ہے۔