حدیث نمبر: 2078
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَنْعَتُ الزَّيْتَ وَالْوَرْسَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَيَلُدُّهُ مِنَ الْجَانِبِ الَّذِي يَشْتَكِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ اسْمُهُ مَيْمُونٌ هُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذات الجنب ۱؎ کی بیماری میں زیتون کا تیل اور ورس ۲؎ تشخیص کرتے تھے ، قتادہ کہتے ہیں : اس کو منہ میں ڈالا جائے گا ، اور منہ کی اس جانب سے ڈالا جائے گا جس جانب مرض ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ابوعبداللہ کا نام میمون ہے ، وہ ایک بصریٰ شیخ ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: پسلی کا ورم جو اکثر مہلک ہوتا ہے۔ ۲؎: ایک زرد رنگ کی خوشبودار گھاس ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2078
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (3467) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (761) ، وفيه زيادة: القسط // , شیخ زبیر علی زئی: (2078) إسناده ضعيف / جه 3467, ميمون أبو عبدالله : ضعيف (تق:7051)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الطب 17 (3467) ( تحفة الأشراف : 3684) (سند میں میمون ابوعبد اللہ ضعیف راوی ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2079 | سنن ابن ماجه: 3467

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ذات الجنب (نمونیہ) کے علاج کا بیان۔`
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذات الجنب ۱؎ کی بیماری میں زیتون کا تیل اور ورس ۲؎ تشخیص کرتے تھے، قتادہ کہتے ہیں: اس کو منہ میں ڈالا جائے گا، اور منہ کی اس جانب سے ڈالا جائے گا جس جانب مرض ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2078]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
پسلی کا ورم جو اکثر مہلک ہوتاہے۔

2؎:
ایک زرد رنگ کی خوشبو دار گھاس ہے۔

نوٹ:
(سندمیں میمون ابوعبد اللہ ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2078 سے ماخوذ ہے۔