سنن ترمذي
كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم— کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْغِيلَةِ باب: ایام رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ ابْنَةِ وَهْبٍ وَهِيَ جُدَامَةُ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَرَدْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيَالِ ، فَإِذَا فَارِسُ وَالرُّومُ يَفْعَلُونَ وَلَا يَقْتُلُونَ أَوْلَادَهُمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مَالِكٌ : وَالْغِيَالُ أَنْ يَطَأَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ .´جدامہ بنت وہب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میں نے ارادہ کیا کہ ایام رضاعت میں صحبت کرنے سے لوگوں کو منع کر دوں ، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کرتے ہیں ، اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- مالک نے یہ حدیث «عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة عن جدامة بنت وهب عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، ۳- اس باب میں اسماء بنت یزید سے بھی روایت ہے ، ۴- مالک کہتے ہیں : «غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جدامہ بنت وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرا ارادہ ہوا کہ «غیلہ» سے روک دوں پھر مجھے خیال ہوا کہ روم و فارس کے لوگ بھی «غیلہ» کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔“ اسحاق (راوی) کی روایت میں «یصنعہ» کی جگہ «یصنعونہ» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3328]
لیکن یہ حدیث دوسری حدیث کے منافی نہیں ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے عزل کو مؤدہ صغریٰ قراردینے کی تکذیب کی ہے۔
کیونکہ یہودیوں کا تصور تھا کہ عزل کی صورت میں حمل کا قرار ممکن نہیں ہے، اس سے بچہ پیدا ہی نہیں ہو سکتا اور یہ بات قطعاً غلط ہے۔
جس بچے کے پیدا ہونے کا اللہ فیصلہ کر چکا ہے وہ عزل کے باوجود پیدا ہو کر رہتا ہے۔
غِيلَه اور غَيلَه: زیراورزبر کے ساتھ۔
دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ مباشرت کرنے کو کہتے ہیں اور ابن السکیت کے نزدیک حاملہ عورت کے دودھ پلانے کو غیلہ کہتے ہیں۔
فوائد ومسائل: حکماء کا خیال ہے حاملہ عورت کے دودھ میں بیماری پیدا ہوجاتی ہے، اور یہ دودھ پینے والا بچہ لاغر اور کمزور ہو جاتا ہے، اس لیے عرب اس دودھ سے احتراز کرتے تھے۔
لیکن دودھ میں بیماری اورتبدیلی کا پیدا ہونا قطعی اور یقینی نہیں ہے، بعض دفعہ یہ نقصان کا باعث بنتا ہے خاص کر جبکہ بچہ چھوٹا ہو۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فارسیوں اور رومیوں کے بارے میں یہ معلوم کرلیا۔
انہیں غیلہ سے نقصان نہیں پہنچتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کے بارے میں بھی یہی فیصلہ کیا کہ انہیں اس کام سے منع نہ کیا جائے۔
اگر کوئی احتراز کر لے، تو یہ بہتر ہے۔
(حجۃاللہ ج2 ص135)
جدامہ اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” میں نے قصد کر لیا تھا کہ «غیلہ» سے منع کر دوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔“ مالک کہتے ہیں: «غیلہ» یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے حالت رضاعت میں جماع کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3882]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایامِ رضاعت میں بیوی سے ہم بستری کرنا جائز ہے۔
جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” میں نے ارادہ کیا کہ بچہ کو دودھ پلانے والی بیوی سے جماع کرنے کو منع کر دوں، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کر رہے ہیں، اور ان کی اولاد نہیں مرتی “ اور جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «عزل» کے متعلق پوچھا گیا تھا، تو میں نے آپ کو فرماتے سنا: ” وہ تو «وأدخفی» (خفیہ طور زندہ گاڑ دینا) ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2011]
فوائد و مسائل:
(1)
دودھ پلانے کے ایام میں ہم بستری کرنے سے حمل ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ماں کا دودھ کم ہوجاتا ہے او ردودھ پیتا بچہ پورا دودھ نہ ملنے کی وجہ سے کمزور رہ جاتا ہے۔
غیلہ کی صورت میں یہ اندیشہ موجود تو ہے، تاہم یقینی نہیں۔
دودھ کی کمی کا تدارک بھینس، گائے اور بکری وغیرہ کے دودھ سے ممکن ہے۔
ایسے حالات میں وقت سے پہلے دودھ چھڑانا نقصان دہ نہیں ہوگا، اس لیے اس سے اجتناب کرنا جائز تو ہے ضروری نہیں۔
(2)
عزل کے بارے میں دیکھئے فوائد حدیث: 1926۔
«. . . عن جدامة بنت وهب الاسدية انها قالت: اخبرتني انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ”لقد هممت ان انهى عن الغيلة حتى ذكرت الروم وفارس يصنعون ذلك فلا يضر اولادهم شيئا . . .»
”. . . سیدہ جدامہ بنت وہب الاسدیہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ (حاملہ یا مرضعہ بیوی سے جماع) سے منع کر دوں لیکن مجھے یاد آیا کہ رومی اور فارسی لوگ ایسا کرتے ہیں تو ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 361]
[وأخرجه مسلم 1442، من حديث ما لك به .]
تفقه:
➊ اگر عورت اپنے بچے بچی کو دودھ پلا رہی ہو تو ایام نفاس کے بعد خاوند اپنی بیوی سے ایام رضاعت میں جماع کر سکتا ہے۔
➋ پہلی امتوں کے واقعات بیان کرنا جائز ہے بشرطیکہ ان واقعات کی سند صحیح ہو۔
➌ زیادہ علم والا اور افضل انسان اپنے سے کم علم والے اور مفضول سے روایت بیان کر سکتا ہے کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث سیدہ جدامہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی ہے اور بالاتفاق اہل سنت سیدہ عائشہ ان سے افضل ہیں۔ رضی اللہ عنہما
➍ حاملہ بیوی سے شوہر کا جماع کرنا جائز ہے بشرطیکہ پیٹ والے بچے کو کسی ضرر کا اندیشہ نہ ہو۔
➎ نبی ان کا ہر قول و فعل امت مسلمہ کے لئے احسان، خیر اور رحمت ہی رحمت ہے۔
➏ غیر اقوام سے مفید اور معقول چیز میں اخذ کی جا سکتی ہیں۔
➐ اجتہاد کرنا جائز ہے بشرطیکہ واضح دلیل کے خلاف نہ ہو۔