سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الأَذَانِ باب: اذان کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَذَّنَ سَبْعَ سِنِينَ مُحْتَسِبًا كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَثَوْبَانَ , وَمُعَاوِيَةَ , وَأَنَسٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ غَرِيبٌ ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ اسْمُهُ : يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، وَأَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ اسْمُهُ : مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَجَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ ، ضَعَّفُوهُ تَرَكَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : سَمِعْت الْجَارُودَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ : لَوْلَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ لَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ حَدِيثٍ ، وَلَوْلَا حَمَّادٌ لَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ فِقْهٍ .´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے سات سال تک ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے جہنم کی آگ سے نجات لکھ دی جائے گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے ، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، ثوبان ، معاویہ ، انس ، ابوہریرہ اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳ - اور جابر بن یزید جعفی کی لوگوں نے تضعیف کی ہے ، یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے انہیں متروک قرار دیا ہے ، ۴- اگر جابر جعفی نہ ہوتے ۱؎ تو اہل کوفہ بغیر حدیث کے ہوتے ، اور اگر حماد نہ ہوتے تو اہل کوفہ بغیر فقہ کے ہوتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے سات سال تک ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے جہنم کی آگ سے نجات لکھ دی جائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 206]
1؎:
اس کے با وجود باعتراف امام ابو حنیفہ جابر جعفی جھوٹا راوی ہے، امام ابو حنیفہ کی ہر رائے پر ایک حدیث گھڑ لیا کرتا تھا۔
نوٹ:
(سند میں ’’جابرجعفی‘‘ ضعیف متروک الحدیث راوی ہے)