حدیث نمبر: 2051
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ ، وَكَانَ يَحْتَجِمُ لِسَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب موجود دو پوشیدہ رگوں اور کندھے پر پچھنا لگواتے تھے ، اور آپ مہینہ کی سترہویں ، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگواتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابن عباس اور معقل بن یسار رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2051
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3483) , شیخ زبیر علی زئی: (2051) إسناده ضعيف / د 3860، جه 3483
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطب 4 (3860) ، سنن ابن ماجہ/الطب 21 (3482) ( تحفة الأشراف : 1147) ، و مسند احمد (3/119) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3860 | سنن ابن ماجه: 3483

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3860 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سینگی (پچھنا) لگانے کی جگہ کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کے دونوں پٹھوں میں اور دونوں کندھوں کے بیچ میں تین پچھنے لگوائے۔ ایک بوڑھے کا بیان ہے: میں نے پچھنا لگوائے تو میری عقل جاتی رہی یہاں تک کہ میں نماز میں سورۃ فاتحہ لوگوں کے بتانے سے پڑھتا، بوڑھے نے پچھنا اپنے سر پر لگوایا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3860]
فوائد ومسائل:
سینگی لگوانا ایک مفید اور قابلِ عمل طریقہ علاج ہے، مگر اس شخص کے لیئے جسے ماہرِفن طبیب مشورہ دے، غلط جگہ یا نہ جاننے والے سے سینگی لگوانے میں نقصان کا اندیشہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3860 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3483 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حجامت (پچھنا لگوانے) کی جگہ کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں اور مونڈھے کے درمیان کی جگہ پچھنا لگوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3483]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے شواہد اور متابعات کی بنا پر اسے صحیح قرار دیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت متابعات اور شواہد کی بنا پر سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل ہے۔
مزید تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (سلسلة الأحادیث الصحیحة للألبانی، رقم: 908، سنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، رقم: 3483)

(2)
اخذ عین سى مراد وہ رگیں ہیں جو گردن پر دایئں بایئں ہوتی ہیں۔

(3)
کاھل سے مراد کندھو ں کے درمیان کی وہ جگہ ہے جہاں سے گردن باقی جسم کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3483 سے ماخوذ ہے۔