سنن ترمذي
كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم— کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ باب: کلونجی (شونیز) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2041
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ " إِلَّا السَّامَ ، وَالسَّامُ : الْمَوْتُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَعَائِشَةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ : هِيَ الشُّونِيزُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اس کالے دانہ ( کلونجی ) کو لازمی استعمال کرو اس لیے کہ اس میں «سام» کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء موجود ہے ، «سام» موت کو کہتے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں بریدہ ، ابن عمر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- «الحبة السوداء» ، «شونيز» ( کلونجی ) کو کہتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5688 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5688. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے ”کلونجی میں ہر بیماری سے شفا ہے سوائے سام کے۔“ ابن شہاب نے کہا: سام، موت کو کہتے ہیں اور حبہ سوداء کلونجی کا نام ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5688]
حدیث حاشیہ: فی الواقع موت وقت مقررہ پر آ کر رہتی ہے خواہ کوئی انسان کچھ تدبیر کرے لاکھ دوائیاں استعمال کرے کتنا ہی سرمایہ دار کثیر الوسائل ہو مگر ان میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو موت کو ٹال سکے سچ ہے۔
﴿کُل نفس ذَائقةُ المَوتِ﴾
﴿کُل نفس ذَائقةُ المَوتِ﴾
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5688 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5688 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5688. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے ”کلونجی میں ہر بیماری سے شفا ہے سوائے سام کے۔“ ابن شہاب نے کہا: سام، موت کو کہتے ہیں اور حبہ سوداء کلونجی کا نام ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5688]
حدیث حاشیہ:
موت کا وقت مقرر ہے، وہ آ کر رہتی ہے، خواہ کتنی ہی دوا استعمال کر لی جائے۔
اس کا دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔
کلونجی اپنے عموم کے اعتبار سے ہر بیماری کا علاج ہے، اگرچہ کچھ حضرات کا خیال ہے کہ اس عموم سے خصوص مراد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک جڑی بوٹی میں تمام خصوصیات جمع نہیں ہو سکتیں جو علاج میں تمام بیماریوں کے لیے شفا کا باعث ہو، لیکن ہمارا تجربہ ہے کہ یہ اپنے عموم پر ہے اور ہر مرض کے لیے اس میں شفا ہے۔
ہم اسے ہر بیماری کے لیے استعمال کرتے ہیں، ابھی تک ہمیں اس میں ناکامی نہیں ہوئی۔
اگر اس کے ساتھ شہد ملا لیا جائے تو سونے پر سہاگا ہے۔
چند سال قبل دارالسلام نے شہد میں کلونجی ملا کر ایک مرکب تیار کیا تھا جو بہت فائدہ مند اور کامیاب تھا۔
اگر پانی کے ساتھ رات سوتے وقت اس کے چند دانے استعمال کر لیے جائیں تو إن شاء اللہ ہر بیماری سے شفا ہو گی۔
اسے مفرد اور مرکب دونوں طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ شاید حضرت غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ زکام میں مبتلا تھے، اس لیے ابن ابی عتیق نے دوا کو ناک میں ٹپکانے کی تجویز دی۔
(فتح الباري: 179/10)
موت کا وقت مقرر ہے، وہ آ کر رہتی ہے، خواہ کتنی ہی دوا استعمال کر لی جائے۔
اس کا دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔
کلونجی اپنے عموم کے اعتبار سے ہر بیماری کا علاج ہے، اگرچہ کچھ حضرات کا خیال ہے کہ اس عموم سے خصوص مراد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک جڑی بوٹی میں تمام خصوصیات جمع نہیں ہو سکتیں جو علاج میں تمام بیماریوں کے لیے شفا کا باعث ہو، لیکن ہمارا تجربہ ہے کہ یہ اپنے عموم پر ہے اور ہر مرض کے لیے اس میں شفا ہے۔
ہم اسے ہر بیماری کے لیے استعمال کرتے ہیں، ابھی تک ہمیں اس میں ناکامی نہیں ہوئی۔
اگر اس کے ساتھ شہد ملا لیا جائے تو سونے پر سہاگا ہے۔
چند سال قبل دارالسلام نے شہد میں کلونجی ملا کر ایک مرکب تیار کیا تھا جو بہت فائدہ مند اور کامیاب تھا۔
اگر پانی کے ساتھ رات سوتے وقت اس کے چند دانے استعمال کر لیے جائیں تو إن شاء اللہ ہر بیماری سے شفا ہو گی۔
اسے مفرد اور مرکب دونوں طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ شاید حضرت غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ زکام میں مبتلا تھے، اس لیے ابن ابی عتیق نے دوا کو ناک میں ٹپکانے کی تجویز دی۔
(فتح الباري: 179/10)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5688 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2215 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا، ’’کلونجی ہر بیماری میں شفا بخش ہے، سوائے موت کے۔‘‘ سام موت کو کہتے ہیں اور حبة السوداء [صحيح مسلم، حديث نمبر:5766]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
الحبة السوداء: جس کو فارسی میں شونیز، اردو میں کلونجی اور انگریزی میں blackcumin کہتے ہیں، جو ایک قسم کے سیاہ دانے ہیں، جو اندر سے سفید ہوتے ہیں اور بعض نے اس کو کالی جیری کا نام دیا ہے اور بقول ڈاکٹر خالد غزنوی، کلونجی کا پودا جھاڑیوں کی مانند تقریباً آدھ میٹر اونچا ہوتا ہے، جس کو نیلے رنگ کے پھول لگتے ہیں۔
فوائد ومسائل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلونجی کو ہر مرض کی دوا قرار دیا ہے اور یہ مبنی بر حقیقت بات ہے، جیسے جیسے تحقیقات بڑھتی جاتی ہیں، اس کے فوائد معلوم ہوتے جاتے ہیں اور آئندہ معلوم نہیں، یہ کن کن بیماریوں میں اس کی افادیت کا ظہور ہو گا، اس کے فوائد کی تفصیل کے لیے دیکھئے، (طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنس، ص 246 تا 254)
اور عود ہندی کے فوائد اس کتاب کے ص 225 تا 237 دیکھئے۔
الحبة السوداء: جس کو فارسی میں شونیز، اردو میں کلونجی اور انگریزی میں blackcumin کہتے ہیں، جو ایک قسم کے سیاہ دانے ہیں، جو اندر سے سفید ہوتے ہیں اور بعض نے اس کو کالی جیری کا نام دیا ہے اور بقول ڈاکٹر خالد غزنوی، کلونجی کا پودا جھاڑیوں کی مانند تقریباً آدھ میٹر اونچا ہوتا ہے، جس کو نیلے رنگ کے پھول لگتے ہیں۔
فوائد ومسائل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلونجی کو ہر مرض کی دوا قرار دیا ہے اور یہ مبنی بر حقیقت بات ہے، جیسے جیسے تحقیقات بڑھتی جاتی ہیں، اس کے فوائد معلوم ہوتے جاتے ہیں اور آئندہ معلوم نہیں، یہ کن کن بیماریوں میں اس کی افادیت کا ظہور ہو گا، اس کے فوائد کی تفصیل کے لیے دیکھئے، (طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنس، ص 246 تا 254)
اور عود ہندی کے فوائد اس کتاب کے ص 225 تا 237 دیکھئے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2215 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1138 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1138- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم پراس سیاہ دانے کو استعمال کرنا لازم ہے کیونکہ اس میں ”سام“ کے علاوہ ہر بیماری کی شفا ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) ”سام“ سے مراد موت ہے اور سیاہ دانے سے مراد کلونجی ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1138]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کلونجی میں شفاء ہے، اس کی شفا میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے، مریضوں کو یہ کھلانی چاہیے، اسی طرح آب زمزم اور شہد بھی شفاء ہے، ان کا استعمال بھی گھروں میں عام ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کلونجی میں شفاء ہے، اس کی شفا میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے، مریضوں کو یہ کھلانی چاہیے، اسی طرح آب زمزم اور شہد بھی شفاء ہے، ان کا استعمال بھی گھروں میں عام ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1136 سے ماخوذ ہے۔