سنن ترمذي
كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم— کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ لاَ تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ باب: ارشاد نبوی ہے: مریض کو کھانے پینے پر مجبور نہ کرو۔
حدیث نمبر: 2040
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا پلاتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3444 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مریض کو کھانے پر مجبور نہ کرنے کا بیان۔`
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنے مریضوں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3444]
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنے مریضوں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا اور پلاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3444]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکور روایت کو ہمارے محقق نے سندا ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ امام ترمذی اور شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قراردیا ہے۔
اورانہی کی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔
واللہ اعلم۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (الصحیحة للألبانی رقم: 727)
(2)
مریض کے لئے صحت مند انسان والی غذا مفید نہیں ہوتی۔
اس لئے انھیں بھاری غذا نہ دی جائے۔
(3)
اگر مریض کی طبیعت کھانے پینے پر آمادہ نہ ہو تو سختی نہ کی جائے۔
کیونکہ زبردستی کھلائی ہوئی غذا فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہے۔
(4)
مناسب ترغیب کے ذریعے سےہلکی پھلکی زود ہضم غذا دی جاسکتی ہے۔
تاکہ قوت قائم رہے۔
(5)
اللہ تعالیٰ مریض کو کھلاتا پلاتاہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں تندرست آدمی کی طرح کھانے پینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکور روایت کو ہمارے محقق نے سندا ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ امام ترمذی اور شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قراردیا ہے۔
اورانہی کی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔
واللہ اعلم۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (الصحیحة للألبانی رقم: 727)
(2)
مریض کے لئے صحت مند انسان والی غذا مفید نہیں ہوتی۔
اس لئے انھیں بھاری غذا نہ دی جائے۔
(3)
اگر مریض کی طبیعت کھانے پینے پر آمادہ نہ ہو تو سختی نہ کی جائے۔
کیونکہ زبردستی کھلائی ہوئی غذا فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہے۔
(4)
مناسب ترغیب کے ذریعے سےہلکی پھلکی زود ہضم غذا دی جاسکتی ہے۔
تاکہ قوت قائم رہے۔
(5)
اللہ تعالیٰ مریض کو کھلاتا پلاتاہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں تندرست آدمی کی طرح کھانے پینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3444 سے ماخوذ ہے۔