حدیث نمبر: 2031
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِلَّا تَرَكَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو حَازِمٍ هُوَ الْأَشْجَعِيُّ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا ، جب آپ کو پسند آتا تو کھا لیتے نہیں تو چھوڑ دیتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2031
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المناقب 23 (3563) ، صحیح مسلم/الأشربة 35 (2064) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 4 (3259) ( تحفة الأشراف : 13403) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3563 | صحيح البخاري: 5409 | صحيح مسلم: 2064 | سنن ابي داود: 3763

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5409 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5409. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا۔ اگر پسند ہوتا تو کھا لیتے اگر ناپسند ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5409]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ کھانے کاعیب بیان کرنا جیسے یوں کہنا کہ اس میں نمک نہیں ہے یا پھیکا ہے یا نمک زیادہ ہے۔
یہ ساری باتیں مکروہ ہیں۔
پکانے اور ترکیب میں کسی نقص کی اصلاح کرنا مکروہ نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5409 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5409 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5409. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا۔ اگر پسند ہوتا تو کھا لیتے اگر ناپسند ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5409]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس سے مراد حلال کھانا ہے کیونکہ حرام کھانے کی مذمت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
وہ تو سراپا عیب ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مذمت کرتے اور اسے کھانے سے منع فرماتے تھے۔
(2)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ خلقت کے اعتبار سے اسے معیوب قرار دینا منع ہے، البتہ تیار شدہ کھانے پر عیب لگایا جا سکتا ہے لیکن الفاظ میں عموم ہے، کسی صورت میں اسے معیوب کہنا صحیح نہیں، خواہ بنانے اور تیار کرنے کے اعتبار سے کیوں نہ ہو۔
اس طرح کھانا تیار کرنے والے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کھانے کے آداب میں سے ہے کہ اس میں عیب نہ نکالے جائیں کہ اس میں نمک نہیں ہے یا پھیکا ہے یا نمک زیادہ ہے یا اس کا شوربا اچھی طرح پکا ہوا نہیں ہے۔
یہ تمام باتیں مکروہ ہیں، البتہ پکانے اور ترکیب میں کسی نقص کی اصلاح کرنا مکروہ نہیں ہے۔
(فتح الباري: 678/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5409 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3563 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3563. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےانھوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی کسی کھانے کو عیب دار نہیں کہا۔ اگر آپ کا دل چاہتا تو تناول فرمالیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3563]
حدیث حاشیہ: اللہ والوں کی یہی شان ہوتی ہے، برخلاف اس کے دنیا پرست شکم پرور لوگ کھانا کھانے بیٹھتے ہیں اورلقمہ لقمہ میں عیب جوئیاں شروع کردیتے ہیں، اللہ پاک ہر مسلمان کو اسوہ رسول پر عمل کی توفیق بخشے۔
(آمین)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3563 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3563 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3563. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےانھوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی کسی کھانے کو عیب دار نہیں کہا۔ اگر آپ کا دل چاہتا تو تناول فرمالیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3563]
حدیث حاشیہ:
اللہ والوں کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ کبھی کسی کھانے کو معیوب قرارنہیں دیتے،اس کے برعکس دنیا پرست اور شکم پرور(پیٹو)
لوگ جو کھانے بیٹھتے ہیں تو لقمے لقمے میں عیب نکالنا شروع کردیتے ہیں اور ہمارے ہاں تو یہ عام رواج ہے کہ کھانا کھاتے وقت مرچ نمک کی کمی کا شکوہ شروع ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ہمیں اس روش کا جائزہ لینا چاہیے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3563 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3763 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کھانے کی برائی بیان کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ بات ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، اگر رغبت ہوتی تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3763]
فوائد ومسائل:

انسان اللہ کی نعمت کھانے سے رہ بھی نہ سکے۔
اور پھر اس کی عیب جوئی بھی کرے۔
یہ بہت بُری خصلت ہے۔
اگر کھانا تیار کرنے والے کی تقصیر ہوتو اس کو مناسب انداز سے سمجھا دینا چاہیے۔


اس حدیث سے یہ استدلال بھی کیا جا سکتا ہے۔
کہ انسان نے کسی شخص یا کسی ادارے سے کوئی معاہدہ طے کیا ہو۔
اور طے شدہ امور وشرائط پر معاملہ چل رہا ہو تو مناسب نہیں کہ اس ادارے یا افراد پر بلاوجہ معقول طعن وتشنیع کرے۔
یا تو بخیر وخوبی ساتھ نبھائے یا بھلے انداز سے جدا ہو جائے۔
تاہم نصیحت اور خیر خواہی کا اسلامی شرعی اور اخلاق حق اچھے طریقے سے ادا کیا جانا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3763 سے ماخوذ ہے۔