سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الإِخْوَانِ باب: دوست و احباب کی زیارت اور ان سے ملاقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 2008
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْبَصْرِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ هُوَ الشَّامِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا ، أَوْ زَارَ أَخًا لَهُ فِي اللَّهِ ، نَادَاهُ مُنَادٍ أَنْ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو سِنَانٍ اسْمُهُ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ ، وَقَدْ رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کی تو اس کو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے : تمہاری دنیاوی و اخروی زندگی مبارک ہو ، تمہارا چلنا مبارک ہو ، تم نے جنت میں ایک گھر حاصل کر لیا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- حماد بن سلمہ نے «عن ثابت عن أبي رافع عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حصول ثواب کی خاطر اپنے کسی دینی بھائی کی جو مریض ہو عیادت کرے یا کسی بھی دینی بھائی سے ملاقات کرے تو ایسا شخص اس ثواب کا مستحق ہو گا جو اس حدیث میں مذکور ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´دوست و احباب کی زیارت اور ان سے ملاقات کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کی تو اس کو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمہاری دنیاوی و اخروی زندگی مبارک ہو، تمہارا چلنا مبارک ہو، تم نے جنت میں ایک گھر حاصل کر لیا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2008]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کی تو اس کو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمہاری دنیاوی و اخروی زندگی مبارک ہو، تمہارا چلنا مبارک ہو، تم نے جنت میں ایک گھر حاصل کر لیا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2008]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حصول ثواب کی خاطر اپنے کسی دینی بھائی کی جو مریض ہوعیادت کرے یا کسی بھی دینی بھائی سے ملاقات کرے تو ایسا شخص اس ثواب کا مستحق ہوگا جو اس حدیث میں مذکورہے۔
وضاحت: 1؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حصول ثواب کی خاطر اپنے کسی دینی بھائی کی جو مریض ہوعیادت کرے یا کسی بھی دینی بھائی سے ملاقات کرے تو ایسا شخص اس ثواب کا مستحق ہوگا جو اس حدیث میں مذکورہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2008 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1443 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مریض کی عیادت کا ثواب۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی مریض کی عیادت کی تو آسمان سے منادی (آواز لگانے والا) آواز لگاتا ہے: تم اچھے ہو اور تمہارا جانا اچھا رہا، تم نے جنت میں ایک ٹھکانا بنا لیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1443]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی مریض کی عیادت کی تو آسمان سے منادی (آواز لگانے والا) آواز لگاتا ہے: تم اچھے ہو اور تمہارا جانا اچھا رہا، تم نے جنت میں ایک ٹھکانا بنا لیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1443]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے شیخ نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: (المشکواۃ للألبانی، حدیث: 1575، 5015، التحقیق الثانی)
(2)
یہ فرشتوں کی طرف سے عیادت کرنے والے کے لئے خوشخبری ہے۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دعا ہو اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا۔
تو پاک رہے (تیری زندگی پاک اعمال اور نیک سیرت کے ساتھ گزرے)
تیراچلنا بھی پاک ہو (آخرت میں تو جنت میں پہنچے)
اور تجھے جنت میں گھر نصیب ہو۔
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے شیخ نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: (المشکواۃ للألبانی، حدیث: 1575، 5015، التحقیق الثانی)
(2)
یہ فرشتوں کی طرف سے عیادت کرنے والے کے لئے خوشخبری ہے۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دعا ہو اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا۔
تو پاک رہے (تیری زندگی پاک اعمال اور نیک سیرت کے ساتھ گزرے)
تیراچلنا بھی پاک ہو (آخرت میں تو جنت میں پہنچے)
اور تجھے جنت میں گھر نصیب ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1443 سے ماخوذ ہے۔