سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ وَالْعَفْوِ باب: احسان اور عفو و درگزر کا بیان۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ أَمُرُّ بِهِ فَلَا يَقْرِينِي وَلَا يُضَيِّفُنِي ، فَيَمُرُّ بِي أَفَأُجْزِيهِ ، قَالَ : " لَا ، اقْرِهِ " ، قَالَ : وَرَآَّنِي رَثَّ الثِّيَابِ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ ؟ " قُلْتُ : مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ أَعْطَانِيَ اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ ، قَالَ : " فَلْيُرَ عَلَيْكَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ ، وَجَابِرٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ اسْمُهُ عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ الْجُشَمِيُّ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ : اقْرِهِ : أَضِفْهُ ، وَالْقِرَى هُوَ الضِّيَافَةُ .´مالک بن نضلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک ایسا آدمی ہے جس کے پاس سے میں گزرتا ہوں تو میری ضیافت نہیں کرتا اور وہ بھی کبھی کبھی میرے پاس سے گزرتا ہے ، کیا میں اس سے بدلہ لوں ؟ ۱؎ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، ( بلکہ ) اس کی ضیافت کرو “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بدن پر پرانے کپڑے دیکھے تو پوچھا ، تمہارے پاس مال و دولت ہے ؟ میں نے کہا : اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال اونٹ اور بکری عطاء کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” تمہارے اوپر اس مال کا اثر نظر آنا چاہیئے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- «اقْرِهِ» کا معنی ہے تم اس کی ضیافت کرو «قری» ضیافت کو کہتے ہیں ، ۳- اس باب میں عائشہ ، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۴- ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک نضلہ جشمی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مالک بن نضلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک ایسا آدمی ہے جس کے پاس سے میں گزرتا ہوں تو میری ضیافت نہیں کرتا اور وہ بھی کبھی کبھی میرے پاس سے گزرتا ہے، کیا میں اس سے بدلہ لوں؟ ۱؎ آپ نے فرمایا: ” نہیں، (بلکہ) اس کی ضیافت کرو “، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بدن پر پرانے کپڑے دیکھے تو پوچھا، تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال اونٹ اور بکری عطاء کی ہے، آپ نے فرمایا: ” تمہارے اوپر اس مال کا اثر نظر آنا چاہیئے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2006]
وضاحت: 1؎: یعنی بدلہ کے طورپر میں بھی اس کی میزبانی اور ضیافت نہ کروں۔
مالک بن نضلۃ الجشمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک معمولی کپڑے میں آیا تو آپ نے فرمایا: ” کیا تم مالدار ہو؟ “ میں نے عرض کیا: جی ہاں مالدار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کس قسم کا مال ہے؟ “ تو انہوں نے کہا: اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام (ہر طرح کے مال سے) اللہ نے مجھے نوازا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ کی نعمت اور اس کے اعزاز کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چاہیئے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4063]
مستحب ہے کہ انسان اپنی حیثیت کے مطابق مناسب لباس وغیرہ استعمال کرے اور اللہ کا شکر ادا کرے، مگر لازم ہے کہ بہت زیادہ مال داری کا اظہار بھی نہ ہو کیونکہ اس طرح دیگر مسلمانوں میں حسرت اور محرومی کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں جو ناپسندیدہ امر ہے۔
سوال: کیا یہ حدیث صحیح ہے: ’’بلا شبہ اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمت کے آثار اپنے بندے پر دیکھے‘‘؟
الجواب: سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میری (ظاہری) حالت خراب تھی تو آپ نے فرمایا: کیا تمھارے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: کس قسم کا مال ہے؟ میں نے کہا: ہر قسم کا مال ہے، اونٹ، غلام، گھوڑے اور بھیڑبکریاں سب کچھ ہے تو آپ نے فرمایا: ((إِذَا اَتَاکَ اللہ مالاً فَلْیُرَ علیک)) جب اللہ نے تجھے مال دیا ہے تو اس کا اثر تجھ پر نظر آنا چاہئے۔
(مسند احمد 3/ 473 ح 15888، وسندہ صحیح و صححہ ابن حبان 5416/5392 والحاکم 4/181 ح 7364 ووافقہ الذہبی)
یہ روایت بلحاظِ سند و متن بالکل صحیح ہے۔ اسے ابو داود (ح 4063) اور نسائی (8/ 181 ح5225، 5226) نے بھی ’’أبو إسحاق السبیعي عن أبی الأحوص بن مالک بن نضلۃ عن أبیہ‘‘ کی سند سے بیان کیا ہے۔ ابو اسحاق کی یہ روایت اختلاط سے پہلے کی ہے اور انھوں نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ والحمد للہ
سنن ابی داود کے الفاظ درج ذیل ہیں: «فإذا آتاك الله مالاً فلير أثر نعمة الله عليك و كرامته»
پس جب اللہ نے تجھے مال دیا ہے تو اللہ کی نعمت اور سخاوت کا اثر تجھ پر نظر آنا چاہئے۔
[طبع دارالسلام ح 4063]
سنن نسائی میں اسی مفہوم کی روایت ہے، امام ترمذی نے یہ روایت مختصراً بیان کرنے کے بعد فرمایا: ’’ھٰذا حدیث حسن صحیح‘‘ (البروالصلۃ باب ماجاء فی الاحسان والعفو ح 2006)
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَن أنعم الله عليه نعمةً فإن الله يحبّ أن يُري أثر نعمته على خلقه»
جسے اللہ اپنی نعمت عطا فرمائے تو اللہ پسند کرتا ہے کہ اس کی مخلوق پر اُس کی نعمت کا اثر نظر آئے۔
(مسند احمد 4/ 438 ح 19934، وسندہ صحیح)
خلاصہ یہ کہ یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (ج 2 ص 498۔499)
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھٹیا کپڑے پہن کر آئے۔ تو آپ نے فرمایا: ” کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ “ وہ بولے: جی ہاں، سب کچھ ہے۔ آپ نے فرمایا: ” کس طرح کا مال ہے؟ “ وہ بولے: اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ، بکریاں، گھوڑے اور غلام عطا کئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ” جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل کے تم پر آثار بھی دکھائی دینے چاہیئے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5226]
ابوالاحوص کے والد عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے خستہ حالت میں دیکھا، تو فرمایا: ” کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے؟ “ میں نے کہا: جی ہاں! اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال دے رکھا ہے، آپ نے فرمایا: ” جب تمہارے پاس مال ہو تو اس کے آثار بھی نظر آنے چاہئیں ۱؎۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5296]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہمیں لوگوں کو اللہ تعالیٰ ٰ کی طرف اور صلہ رحمی کی دعوت دینی اس چاہیے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کی خالص دعوت سے لوگ دشمنی پر اتر آتے ہیں تو ہمیں ان کی دشمنی کی پروا نہیں کرنی چاہیے، اس میں علماء کرام کے لیے واضح نصیحت ہے کہ انھیں ڈٹ کر اور صبر و استقامت کا پہاڑ بن کر دین کی تبلیغ کرتے رہنا چاہیے، اور لوگوں کی مخالفت کی پروا نہیں کرنی چاہیے، علمائے حق کی یہی نشانی ہے اور رہے علماء سو جو لوگوں کے افکار کے مطابق شریعت کو بدل دیتے ہیں، قرآن و حدیث کی بجائے بدعات و خرافات کی تائید کرتے ہیں، صرف اس وجہ سے کہ لوگ ہماری مخالفت نہ کریں، اللہ تعالیٰ ٰ ایسے علماء کو سمجھ عطا فرمائے، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ لوگوں کو مثلاً یں دے کر سمجھانا چاہیے، اس سے بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔