حدیث نمبر: 2000
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَذْهَبُ بِنَفْسِهِ حَتَّى يُكْتَبَ فِي الْجَبَّارِينَ فَيُصِيبُهُ مَا أَصَابَهُمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انسان ہمیشہ اپنے آپ کو تکبر ( گھمنڈ ) کی طرف لے جاتا ہے ، یہاں تک کہ ظالموں کی فہرست میں اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے ، اور اس لیے اسے وہی عذاب لاحق ہوتا ہے جو ظالموں کو لاحق ہوا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2000
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (1914) // ضعيف الجامع الصغير (6344) // , شیخ زبیر علی زئی: (2000) إسناده ضعيف, عمر بن راشد اليمامي : ضعيف (تق: 4894) وقال العراقي: ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء 370/1) وقال الھيثمي : وضعفه الجمھور ( مجمع الزوائد 46/10)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4528) (ضعیف) (سند میں عمر بن راشد ضعیف راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´تکبر اور گھمنڈ کا بیان۔`
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان ہمیشہ اپنے آپ کو تکبر (گھمنڈ) کی طرف لے جاتا ہے، یہاں تک کہ ظالموں کی فہرست میں اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے، اور اس لیے اسے وہی عذاب لاحق ہوتا ہے جو ظالموں کو لاحق ہوا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2000]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عمر بن راشد ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2000 سے ماخوذ ہے۔