سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَذَانِ بِغَيْرِ وُضُوءٍ باب: بغیر وضو کے اذان دینے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 200
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى الصَّدَفِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ " .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اذان وہی دے جو باوضو ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بہتر یہی ہے کہ اذان باوضو ہی دی جائے اور باب کی حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن وائل اور ابن عباس کی احادیث اس کی شاہد ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بغیر وضو کے اذان دینے کی کراہت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اذان وہی دے جو باوضو ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 200]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اذان وہی دے جو باوضو ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 200]
اردو حاشہ:
1؎:
بہتر یہی ہے کہ اذان با وضو ہی دی جائے اور باب کی حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن وائل اور ابن عباس کی احادیث اس کی شاہد ہیں۔
نوٹ:
(سند میں معاویہ بن یحیی صدفی ضعیف ہیں، نیز سند میں زہری اور ابو ہریرہ کے درمیان انقطاع ہے)
1؎:
بہتر یہی ہے کہ اذان با وضو ہی دی جائے اور باب کی حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن وائل اور ابن عباس کی احادیث اس کی شاہد ہیں۔
نوٹ:
(سند میں معاویہ بن یحیی صدفی ضعیف ہیں، نیز سند میں زہری اور ابو ہریرہ کے درمیان انقطاع ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 200 سے ماخوذ ہے۔