سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ باب: ہنسی مذاق، خوش طبعی اور دل لگی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1992
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ " ، قَالَ مَحْمُودٌ : قَالَ أَبُو أُسَامَةَ : يَعْنِي مَازَحَهُ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ” اے دو کان والے ! “ محمود بن غیلان کہتے ہیں : ابواسامہ نے کہا ، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مزاح کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3828 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: " اے دو کانوں والے۔" ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3828]
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: " اے دو کانوں والے۔" ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3828]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3828 سے ماخوذ ہے۔