حدیث نمبر: 1992
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ " ، قَالَ مَحْمُودٌ : قَالَ أَبُو أُسَامَةَ : يَعْنِي مَازَحَهُ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ” اے دو کان والے ! “ محمود بن غیلان کہتے ہیں : ابواسامہ نے کہا ، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مزاح کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1992
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مختصر الشمائل (200)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأدب 92 (5002) ، ویأتي في المناقب 56 (برقم: 3828) ( تحفة الأشراف : 934) ، و مسند احمد (3/117، 127، 242، 260) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3828 | سنن ابي داود: 5002

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3828 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے: " اے دو کانوں والے۔‏‏‏‏" ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3828]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3828 سے ماخوذ ہے۔