حدیث نمبر: 1987
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقِ اللَّهِ حَيْثُمَا كُنْتَ ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا ، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو ، برائی کے بعد ( جو تم سے ہو جائے ) بھلائی کرو جو برائی کو مٹا دے ۱؎ اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔

وضاحت:
۱؎: مثلاً نماز پڑھو، صدقہ و خیرات کرو اور کثرت سے توبہ و استغفار کرو۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1987
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، المشكاة (5083) ، الروض النضير (855)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11989) ، وانظر مسند احمد (5/153، 158، 177، 228، 236) ، وسنن الدارمی/الرقاق 74 (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 694

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن معاشرت (یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے رہنے) کا بیان۔`
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، برائی کے بعد (جو تم سے ہو جائے) بھلائی کرو جو برائی کو مٹا دے ۱؎ اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1987]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مثلاً نماز پڑھو، صدقہ و خیرات کرو اور کثرت سے توبہ و استغفار کرو۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1987 سے ماخوذ ہے۔