حدیث نمبر: 1981
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِي مِنْهُمَا مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ " ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گالی گلوچ کرنے والے دو آدمیوں میں سے گالی کا گناہ ان میں سے شروع کرنے والے پر ہو گا ، جب تک مظلوم حد سے آگے نہ بڑھ جائے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں سعد ، ابن مسعود اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہم سے بھی حدیثیں مروی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: اگر مظلوم بدلہ لینے میں ظالم سے تجاوز کر جائے تو ایسی صورت میں دونوں کے گالی گلوج کا وبال اسی مظلوم کے سر ہو گا نہ کہ ظالم کے سر۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1981
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البر والصلة 18 (2587) ، سنن ابی داود/ الأدب 47 (4894) ( تحفة الأشراف : 14053) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2587 | سنن ابي داود: 4894 | بلوغ المرام: 1296

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´گالی گلوچ کی مذمت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گالی گلوچ کرنے والے دو آدمیوں میں سے گالی کا گناہ ان میں سے شروع کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم حد سے آگے نہ بڑھ جائے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1981]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اگرمظلوم بدلہ لینے میں ظالم سے تجاوز کرجائے توایسی صورت میں دونوں کے گالی گلوج کا وبال اسی مظلوم کے سر ہوگا نہ کہ ظالم کے سر۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1981 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2587 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"باہمی گالی گلوچ کرنے والے دو شخص جو کچھ بھی کہتے ہیں، اس کا وبال گناہ ابتدا کرنے والے پر ہے بشرطیکہ مظلوم زیادتی نہ کرے، حد سے تجاوز نہ کرے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6591]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ظالم سے بدلہ اور انتقام لینے کی اجازت ہے، اگرچہ عفو اور درگزر سے کام لینا افضل ہے اور بدلہ یہی ہے کہ جو بات اس نے کہی، جوابا وہی بات اس کو کہہ دی جائے، اس صورت میں آغاز کرنے والا گناہگار ہو گا۔
لیکن اگر وہ جوابا اینٹ کا جواب پتھر سے دیتا ہے تو وہ بھی گناہ میں شریک ہے اور اپنے کیے کی سزا بھگتے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2587 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4894 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´باہم گالی گلوچ کرنے والوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہم گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہتے ہیں اس کا گناہ اس شخص پر ہو گا جس نے ابتداء کی ہو گی جب تک کہ مظلوم اس سے تجاوز نہ کرے (اگر وہ تجاوز کر جائے تو زیادتی و تجاوز کا گناہ اس پر ہو گا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4894]
فوائد ومسائل:
جو شخص کسی گناہ کا سبب بنے تو مقابل کے گناہ کا وبال بھی ابتدا کرنے والے ہی کے سر ہوتا ہے۔
الا یہ کہ مقابل زیادتی کر جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4894 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1296 کی شرح از الشیخ عبدالسلام بھٹوی ✍️
گالی میں پہل کرنے والے کے لئے وعید
«وعن ابي هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏المستبان ما قالا فعلى الباديء ما لم يعتد المظلوم .‏‏‏‏ اخرجه مسلم.»
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے کو گالی دینے والے دو شخص جو کچھ کہیں (اس کا گناہ) پہل کرنے والے پر ہے جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1269]
تخریج:
[مسلم، البر والصلته/68]
[تحفته الاشراف 232/10]
فوائد:
گالی کا بدلہ لینے کا جواز:
اس حدیث میں اس شخص سے بدلہ لینے کو جائز رکھا گیا ہے جو گالی دینے میں پہل کرے بشرطیکہ بدلہ لینے والا صرف اتنی گالی پر صبر کرے جتنی اسے دی گئی ہے زیادتی نہ کرے۔ اس صورت میں دونوں کا گناہ پہل کرنے والے کی گردن پر ہو گا۔ کیونکہ گالی گلوچ کے اس سلسلے کا اصل باعث وہ بنا ہے۔
«فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ» [2-البقرة:194]
تو جو شخص تم پر زیادتی کرے اس پر اتنی زیادتی کرو جتنی اس نے تم پر کی ہے۔
جواب میں گالی دینے سے پرہیز کی فضیلت:
لیکن اگر یہ صبر کرے اور برداشت کرے تو یہ افضل ہے اور باعث ثواب ہے کیوں کہ جب جواب شروع ہو جائے تو اکثر اوقات زیادتی ہو جاتی ہے اور شیطان کو دخل دینے کا موقع مل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّـهِ» [42-الشورى:40]
اور برائی کی جزا اس کی مثل برائی ہے پھر جو شخص معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ تعجب کرتے رہے اور مسکراتے رہے جب اس نے زیادہ ہی برا بھلا کہا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی کسی بات کا جواب دے دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے اور (وہاں سے) اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے جا کر آپ سے ملے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا اور آپ بیٹھے ہوئے تھے جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ غصے سے اٹھ گئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا جب تم نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو شیطان آ گھسا سو میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ [مسند احمد 2/436]
اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں [هيثمي]
البانی نے اسے حسن کہا۔ دیکھیے: صحیح ابی داود [4897 ]

درج بالا اقتباس شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 200 سے ماخوذ ہے۔