حدیث نمبر: 1980
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا دَعْوَةٌ أَسْرَعَ إِجَابَةً مِنْ دَعْوَةِ غَائِبٍ لِغَائِبٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَالْأَفْرِيقِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی دعا اتنی جلد قبول نہیں ہوتی ہے جتنی جلد غائب آدمی کے حق میں غائب آدمی کی دعا قبول ہوتی ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- راوی افریقی حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں ، ان کا نام عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم ہے ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ ایسی دعا ریا کاری اور دکھاوے سے خالی ہوتی ہے، صدق دلی اور خلوص نیت سے نکلی ہوئی یہ دعا قبولیت سے سرفراز ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1980
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ضعيف أبي داود (269 / 2) // عندنا برقم (330 / 1535) ، ضعيف الجامع الصغير (5065) ، المشكاة (2247) // , شیخ زبیر علی زئی: (1980) إسناده ضعيف / د 1535
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصلاة 36 (1535) ( تحفة الأشراف : 8852) (ضعیف) (سند میں ’’ عبدالرحمن بن أبی نعم ‘‘ ضعیف راوی ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´پیٹھ پیچھے بھائی کے لیے دعا کرنے کی فضیلت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی دعا اتنی جلد قبول نہیں ہوتی ہے جتنی جلد غائب آدمی کے حق میں غائب آدمی کی دعا قبول ہوتی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1980]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیوں کہ ایسی دعا ریا کاری اور دکھاوے سے خالی ہوتی ہے، صدق دلی اور خلوص نیت سے نکلی ہوئی یہ دعاقبولیت سے سرفراز ہوتی ہے۔

نوٹ:
(سند میں ’’عبدالرحمن بن أبی نعم‘‘ ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1980 سے ماخوذ ہے۔