سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي اللَّعْنَةِ باب: لعنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1976
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ ، وَلَا بِغَضَبِهِ ، وَلَا بِالنَّارِ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ ( کسی پر ) اللہ کی لعنت نہ بھیجو ، نہ اس کے غضب کی لعنت بھیجو اور نہ جہنم کی لعنت بھیجو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن عباس ، ابوہریرہ ، ابن عمر اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے وقت یہ مت کہو کہ تم پر اللہ کی لعنت، اس کے غضب کی لعنت اور جہنم کی لعنت ہو، کیونکہ یہ ساری لعنتیں کفار و مشرکین اور یہود و نصاری کے لیے ہیں، نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´لعنت کا بیان۔`
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ (کسی پر) اللہ کی لعنت نہ بھیجو، نہ اس کے غضب کی لعنت بھیجو اور نہ جہنم کی لعنت بھیجو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1976]
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ (کسی پر) اللہ کی لعنت نہ بھیجو، نہ اس کے غضب کی لعنت بھیجو اور نہ جہنم کی لعنت بھیجو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1976]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے وقت یہ مت کہو کہ تم پر اللہ کی لعنت، اس کے غضب کی لعنت اور جہنم کی لعنت ہو، کیوں کہ یہ ساری لعنتیں کفار ومشرکین اور یہود ونصاری کے لیے ہیں، نہ کہ آپ ﷺ کی امت کے لیے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے وقت یہ مت کہو کہ تم پر اللہ کی لعنت، اس کے غضب کی لعنت اور جہنم کی لعنت ہو، کیوں کہ یہ ساری لعنتیں کفار ومشرکین اور یہود ونصاری کے لیے ہیں، نہ کہ آپ ﷺ کی امت کے لیے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1976 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4906 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´لعنت کرنے کا بیان۔`
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کی لعنت یا اللہ کا غضب یا جہنم کی لعنت کسی پر نہ کیا کرو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4906]
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کی لعنت یا اللہ کا غضب یا جہنم کی لعنت کسی پر نہ کیا کرو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4906]
فوائد ومسائل:
اس روایت کو بھی بعض محقیقن نے حسن قرار دیا ہے۔
اس روایت کو بھی بعض محقیقن نے حسن قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4906 سے ماخوذ ہے۔