حدیث نمبر: 1975
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا " ، وَلَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں بہتر ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بےحیاء اور بدزبان نہیں تھے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1975
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (791)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المناقب 23 (3559) ، وفضائل الصحابة 27 (3759) ، صحیح مسلم/الفضائل 16 (2321) ( تحفة الأشراف : 8933) ، و مسند احمد (2/161، 189، 193، 218) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6029 | معجم صغير للطبراني: 35

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6029 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6029. حضرت مسروق سے روایت ہے انہوں نے کہا جب حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ حضرت امیر معاویہ ؓ کے ہمراہ کوفہ تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ بد گوئی کرنے والے اور بے ہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے نیز انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اخلاق کے اعتبار سے اچھا ہو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6029]
حدیث حاشیہ:
(1)
فحش وہ بری بات ہے جو حد سےگزری ہوئی ہو، اس طرح کی باتیں کرنے والے کو فاحش کہتے ہیں اور متفحش بیہودگی اور یا وہ گوئی کرنا ہے۔
لوگوں کو خوش کرنے کے لیے گندی اور بے حیائی پر مبنی باتیں کرنے والے کو متفحش کہتے ہیں۔
(2)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی جیتی جاگتی تصویر تھے، اس لیے آپ نہ تو بدزبانی کرتے اور نہ آپ کو یا وہگوئی کرنے کی عادت تھی بلکہ قرآن کریم پر عمل کرنا آپ کی جبلت تھی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: کیا تو قرآن نہیں پڑھتا؟ آپ کا خلق تو قرآن کریم تھا۔
(صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1739(746)
قرآن کریم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق وکردار کی ان الفاظ میں گواہی دی ہے: ’’یقیناً آپ اعلیٰ اخلاق پر فائز ہیں۔
‘‘ (القلم68: 4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی پسند نہیں کرتا۔
‘‘ (مسند أحمد: 159/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6029 سے ماخوذ ہے۔