سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي الْفُحْشِ وَالتَّفَحُّشِ باب: بےحیائی اور بد زبانی کی مذمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1974
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ ، وَمَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ " ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس چیز میں بھی بےحیائی آتی ہے اسے عیب دار کر دیتی ہے اور جس چیز میں حیاء آتی ہے اسے زینت بخشتی ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4185 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´شرم و حیاء کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بےحیائی جس چیز میں بھی ہو اس کو عیب دار بنا دے گی، اور حیاء جس چیز میں ہو اس کو خوبصورت بنا دے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4185]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بےحیائی جس چیز میں بھی ہو اس کو عیب دار بنا دے گی، اور حیاء جس چیز میں ہو اس کو خوبصورت بنا دے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4185]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حیا زندگی کے ہر مرحلے اور ہر میدان میں ضروری ہے۔
(2)
بے حیائی کلام میں ہو یا حرکات میں یا معاملات میں وہ بری ہی ہے۔
ڈھٹائی، بے مروتی، سنگ دلی، بد معاملہ ہونا اور بے عہدی وغیرہ اصل میں بے حیائی ہی کے مختلف پہلو ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
حیا زندگی کے ہر مرحلے اور ہر میدان میں ضروری ہے۔
(2)
بے حیائی کلام میں ہو یا حرکات میں یا معاملات میں وہ بری ہی ہے۔
ڈھٹائی، بے مروتی، سنگ دلی، بد معاملہ ہونا اور بے عہدی وغیرہ اصل میں بے حیائی ہی کے مختلف پہلو ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4185 سے ماخوذ ہے۔