سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ باب: سچ کی فضیلت اور جھوٹ کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1972
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ هَارُونَ الْغَسَّانِيِّ : حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ الْمَلَكُ مِيلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهِ " ، قَالَ يَحْيَى : فَأَقَرَّ بِهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ هَارُونَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ هَارُونَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور بھاگتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن جید غریب ہے
۲- یحییٰ بن موسیٰ کہتے ہیں : میں نے عبدالرحیم بن ہارون سے پوچھا : کیا آپ سے عبدالعزیز بن ابی داود نے یہ حدیث بیان کی ؟ کہا : ہاں ، ۳- ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ، اس کی روایت کرنے میں عبدالرحیم بن ہارون منفرد ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سچ کی فضیلت اور جھوٹ کی برائی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور بھاگتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1972]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور بھاگتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1972]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’عبد الرحیم بن ہارون‘‘ سخت ضعیف راوی ہے)
نوٹ:
(سند میں ’’عبد الرحیم بن ہارون‘‘ سخت ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1972 سے ماخوذ ہے۔