سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ وَغَايَةِ الضِّيَافَةِ كَمْ هُوَ باب: مہمان نوازی کا ذکر اور اس کی مدت کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، وَمَا أُنْفِقَ عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ " ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ هُوَ الْكَعْبِيُّ ، وَهُوَ الْعَدَوِيُّ اسْمُهُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ : " لَا يَثْوِي عِنْدَهُ " يَعْنِي : الضَّيْفَ ، لَا يُقِيمُ عِنْدَهُ حَتَّى يَشْتَدَّ عَلَى صَاحِبِ الْمَنْزِلِ ، وَالْحَرَجُ : هُوَ الضِّيقُ ، إِنَّمَا قَوْلُهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ يَقُولُ حَتَّى يُضَيِّقَ عَلَيْهِ .´ابوشریح کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ضیافت ( مہمان نوازی ) تین دین تک ہے ، اور مہمان کا عطیہ ( یعنی اس کے لیے پرتکلف کھانے کا انتظام کرنا ) ایک دن اور ایک رات تک ہے ، اس کے بعد جو کچھ اس پر خرچ کیا جائے گا وہ صدقہ ہے ، مہمان کے لیے جائز نہیں کہ میزبان کے پاس ( تین دن کے بعد بھی ) ٹھہرا رہے جس سے اپنے میزبان کو پریشانی و مشقت میں ڈال دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- مالک بن انس اور لیث بن سعد نے اس حدیث کی روایت سعید مقبری سے کی ہے ، ۳- ابوشریح خزاعی کی نسبت الکعبی اور العدوی ہے ، اور ان کا نام خویلد بن عمرو ہے ، ۴- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۵- «لا يثوي عنده» کا مطلب یہ ہے کہ مہمان گھر والے کے پاس ٹھہرا نہ رہے تاکہ اس پر گراں گزرے ، ۶- «الحرج» کا معنی «الضيق» ( تنگی ہے ) اور «حتى يحرجه» کا مطلب ہے «يضيق عليه» یہاں تک کہ وہ اسے پریشانی و مشقت میں ڈال دے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی اور آخرت میں کامیابی وکامرانی کے مطالبات میں سے چند ایک یہ ہیں: (1)
انسان بات کرنے پہلے سوچے یعنی ’’پہلے تولو پھر بولو‘‘ کے اصول پر عمل پیرا ہو، ہر وہ بات کرے تو اس کے لیے اجر وثواب اور اللہ کی رضا کا باعث ہو، اور ہر اس گفتگو یا کلام سے باز رہے جو اس کی گرفت اور مواخذہ کا باعث ہو یا لغو، بے مقصد، فضول اور بے فائدہ یا لایعنی ہو۔
(2)
اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک اور بہتر برتاؤ کرے، ہر اس حرکت قول وفعل سے باز رہے جو پڑوسی کےلیے تکلیف واذیت یا اس کی دل آزاری کا سبب بنتا ہو۔
میل ملاپ کے وقت خندہ پیشانی، کشادہ روئی اور اعزاز واکرام سےپیش آئے۔
(3)
مہمان کی آمد پر اسے خوش آمدید کہے اس کی حتی المقدور مہمان نوازی کرے اور اچھے انداز سے الوداع کہے۔
الجائزة: عطیہ وتحفہ، یعنی ایک دن رات اپنی وسعت، مقدرت کے مطابق اس کے لیے اچھا کھانا پینا تیار کرے اور دوسرے، تیسرے دن جو گھر میں پکتا ہے، وہ پیش کرے، اس کے بعد مرضی ہے، اس کی مہمان نوازی کرے یانہ کرے۔
ابوشریح عدوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث بیان فرما رہے تھے تو میری آنکھوں نے آپ کو دیکھا اور کانوں نے آپ سے سنا، آپ نے فرمایا: ” جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرتے ہوئے اس کا حق ادا کرے “، صحابہ نے عرض کیا، مہمان کی عزت و تکریم اور آؤ بھگت کیا ہے؟ ۱؎ آپ نے فرمایا: ” ایک دن اور ایک رات، اور مہمان نوازی تین دن تک ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ صدقہ ہے، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1967]
وضاحت:
1؎:
یعنی کتنے دن تک اس کے لیے پرتکلف کھانابنایاجائے۔
2؎:
اس حدیث میں ضیافت اور مہمان نوازی سے متعلق اہم باتیں مذکور ہیں، مہمان کی عزت و تکریم کا یہ مطلب ہے کہ خوشی سے اس کا استقبال کیاجائے، اس کی مہمان نوازی کی جائے، پہلے دن اور رات میں اس کے لیے پرتکلف کھانے کاانتظام کیا جائے، مزید اس کے بعد تین دن تک معمول کے مطابق مہمان نوازی کی جائے، اپنی زبان ذکر الٰہی، توبہ و استغفار اور کلمہ خیر کے لیے وقف رکھے یا بے فائدہ فضول باتوں سے گریز کرتے ہوئے اسے خاموش رکھے۔
ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہیئے، اس کا جائزہ ایک دن اور ایک رات ہے اور ضیافت تین دن تک ہے اور اس کے بعد صدقہ ہے، اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کے پاس اتنے عرصے تک قیام کرے کہ وہ اسے مشقت اور تنگی میں ڈال دے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «جائزته يوم وليلة» کے متعلق پوچھا گیا: ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3748]
1۔
(جائزہ) کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے۔
کہ مہمان کے روانہ ہوتے وقت بھی اسے اس قدر دے کہ ایک دن رات کی مسافت آسانی سے طے ہوجائے۔
(فتح الباري: 6135)
2۔
مہمان کے لئے لازم ہے۔
کہ اپنے میزبان کے احوال کا خیال رکھے اور اسکے لئے اذیت یا مشقت کا باعث نہ بنے۔
3۔
میزبان اگر مطالبہ کرے یا کوئی اضطراری کیفیت ہو توتین دن سے زیادہ بھی ٹھر سکتا ہے۔
مگر یہ خدمت میزبان کی طرف سے صدقہ ہوگی۔
ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ نیک سلوک کرے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے مہمان کا احترام اور اس کی خاطرداری کرے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3672]
فوائد و مسائل:
(1)
نیک اعمال انجام دینا ایمان کا تقاضا ہے۔
(2)
پڑوسی کے ساتھ عام طور پر واسطہ پڑنے کی وجہ سے اختلاف پیدا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں، لہٰذا اس کے ساتھ حسن سلوک کا زیادہ اہتمام ہونا چاہیے تاکہ لڑائی جھگڑا نہ ہو۔
(3)
کاروبار میں شراکت رکھنے ولا، بازار میں قریب کا دکاندار، تعلیمی ادارے میں ہم مکتب یا ہم جماعت، ہو سٹل میں ہم کمرہ یا اس عمارت میں رہائش پذیر طالب علم، ایک ہی کارخانے میں کام کرنے والے کارکن اور اس قسم کے دوسرے افراد بھی پڑوسی کے حکم میں ہیں۔
(4)
مہمان کی عزت کا مطلب اس کے لیے معمول سے بہتر کھانا تیار کرنا، اس کےآرام و راحت کا خیال رکھنا، اس کی آمد پر ناگوار ی کا اظہار نہ کرنا اور اس قسم کے دوسرے امور ہیں۔
(5)
بے سوچے سمجھے بات کرنے سے گناہ کی بات منہ سے نکل جاتی ہے، یا ایسی بات کہی جاتی ہے جس سے انسان بعد میں شرمندہ ہو تا ہے، اس لیے غیر ضروری گپ شپ سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(6)
زبان کی حفاظت کے نتیجے میں ذکر وتلاو ت وغیرہ کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے اور نیکیاں زیادہ ہوتی ہیں۔
ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے، اور یہ واجبی مہمان نوازی ایک دن اور ایک رات کی ہے، مہمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے یہاں اتنا ٹھہرے کہ اسے حرج میں ڈال دے، مہمان داری (ضیافت) تین دن تک ہے اور تین دن کے بعد میزبان جو اس پر خرچ کرے گا وہ صدقہ ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3675]
فوائد و مسائل:
(1)
ایک دن رات تک مہمان کی خاطر تواضع کرنا ضروری ہے، تاہم یہ تکلف اپنی استطاعت کے مطابق ہی کرنا چاہیے۔
(2)
دوسرے اور تیسرے دن بھی مہمان کو کھانا کھلانا اور گھر میں ٹھہرانا اس کا حق ہے۔
(3)
مہمان کو چاہیے کہ تین دن سے زیادہ میزبان کے ہاں نہ ٹھہرے، البتہ اگر میزبان قریبی تعلق یا دوستی کی وجہ سے زیادہ ٹھہرنے میں تکلیف محسوس نہ کرے یا مزید ٹھہرنے کی خواہش کا اظہار کرے تو ٹھہرنا بھی درست ہے۔
(4)
تین دن سے زیادہ کسی کے ہاں مہمان بن کر کھانا اور ٹھہرنا اس طرح ہے جیسے صدقہ کھانا، اور خوشحال آدمی صدقہ کھانا پسند نہیں کرتا۔
مہمان کی عزت کی جائے، زبان کو قابو میں رکھا جائے، ورنہ ایمان کی خیر منانی چاہیئے۔
(1)
شریعت میں زبان کی حفاظت کے متعلق بہت زور دیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
‘‘ (صحیح البخاري، الإیمان، حدیث: 10)
ایک دفعہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ’’اے معاذ! تجھے تیری ماں گم پائے! لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل ان کی زبان سے نکلی ہوئی بے معنی باتیں ہی گرائیں گی۔
‘‘ (مسند أحمد: 237/2) (2)
آج بھی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ جو بڑے بڑے گناہ وبا کی طرح عام ہیں اور جن سے محفوظ رہنے والے بہت کم ہیں ان کا تعلق زیادہ تر زبان ہی سے ہے۔
أعاذنا اللہ منھا
«. . . 416- وعن سعيد بن أبى سعيد المقبري عن أبى شريح الكعبي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم جاره، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته يوما وليلة، والضيافة ثلاثة أيام، فما كان بعد ذلك فهو صدقة، ولا يحل له أن يثوي عنده حتى يحرجه.“ . . .»
”. . . سیدنا ابوشریح الکعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اسے چاہئیے کہ اپنے مہمان کا اکرام (عزت) کرے۔ مہمان کی بہترین دعوت ایک دن اور رات ہے اور ضیافت تین دن ہے۔ اس کے بعد جو ہو وہ صدقہ ہے اور مہمان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ میزبان کے پاس اتنا عرصہ ٹھہرا رہے کہ میزبان تنگ ہو جائے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 460]
[وأخرجه البخاري 6135، من حديث مالك، ومسلم 48 بعد ح1762، من حديث سعيد المقبري به]
تفقه:
➊ پڑوسی کی عزت وتکریم ضروری ہے۔
➋ میزبان کے لئے مہمان کی احسن طریقے سے ضیافت تین دن تک ہے، اس کے بعد میزبان کو اختیار ہے۔
➌ اکرامِ ضیف (مہمان کی میزبانی اور عزت و احترام) کے موضوع پر حافظ ابواسحاق ابراہیم بن اسحاق الحربی رحمہ اللہ (متوفی 285ھ) نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں وہ اپنی سند کے ساتھ ایک سو بتیس حدیثیں لائے ہیں۔
➍ حافظ ابن عبدالبر نے اس حدیث میں «جائزته» کے لفظ سے یہ استدلال کیا ہے کہ مہمان کی میزبانی واجب نہیں ہے۔ دیکھئے [التمهيد 21/42]
● اس کے مقابلے میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لیلة الضیف حق علیٰ کل مسلم فمن أصبح بفنائه فھو علیه دین إن شاء اقتضی وإن شاء ترك۔» میزبانی کی رات ہر مسلمان پر حق ہے پھر جو اس کے صحن میں رات گزارے تو گھر والے پر قرض ہے چاہے وہ اسے ادا کرے یا چھوڑ دے۔ [سنن ابي داود: 3750 وسنده صحيح]
یہی روایت [سنن ابن ماجه 3677 وسنده قوي] میں «ليلة الضيف واجبة۔» مہمانی کی رات واجب ہے، کے الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔
➎ کسی دوسرے کے ہاں اتنے لمبے عرصے تک بطور مہمان قیام کرنا جائز نہیں کہ میزبان بیزار ہو جائے۔
➏ کتاب و سنت میں اعتدال اور میانہ روی کا درس ہے۔
اس حدیث میں ہمسائے اور مہمان کے حقوق بیان کیے گئے ہیں، جو ہمسائے اور مہمان کے حقوق ادا نہیں کرتا گویا وہ اللہ اور آخرت کے دن کا منکر ہے۔
اس حدیث میں ایسے مہمان کی مذمت بیان کی گئی ہے جو میزبان کے پاس اتنا رہے کہ میز بان تنگ آ جائے، تین دن تک مہمان کو کھانا کھلانا اس کا حق ہے، لیکن تکلفات میں نہیں پڑنا چاہیے، جو میسر ہو وہ پیش کر دینا چاہیے لیکن بعض لوگوں نے باتیں بنالی ہیں کہ مہمان کے لیے قرضہ بھی لینا پڑے تو لے لیں، یہ بات غلط ہے۔