سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي السَّخَاءِ باب: سخاوت کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللَّهِ ، قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ ، قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ ، بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ ، وَالْبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ ، بَعِيدٌ مِنَ الْجَنَّةِ ، بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ ، قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ ، وَلَجَاهِلٌ سَخِيٌّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ عَالِمٍ بَخِيلٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَقَدْ خُولِفَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ شَيْءٌ مُرْسَلٌ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سخی آدمی اللہ سے قریب ہے ، جنت سے قریب ہے ، لوگوں سے قریب ہے اور جہنم سے دور ہے ، بخیل آدمی اللہ سے دور ہے ، جنت سے دور ہے ، لوگوں سے دور ہے ، اور جہنم سے قریب ہے ، جاہل سخی اللہ کے نزدیک بخیل عابد سے کہیں زیادہ محبوب ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- ہم اسے «يحيى بن سعيد عن الأعرج عن أبي هريرة» کی سند سے صرف سعد بن محمد کی روایت سے جانتے ہیں ، اور یحییٰ بن سعید سے اس حدیث کی روایت کرنے میں سعید بن محمد کی مخالفت کی گئی ہے ، ( سعید بن محمد نے تو اس سند سے روایت کی ہے جو اوپر مذکور ہے ) جب کہ یہ «عن يحيى بن سعيد عن عائشة» کی سند سے بھی مرسلاً مروی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سخی آدمی اللہ سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے، لوگوں سے قریب ہے اور جہنم سے دور ہے، بخیل آدمی اللہ سے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے، اور جہنم سے قریب ہے، جاہل سخی اللہ کے نزدیک بخیل عابد سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1961]
نوٹ:
(سند میں ’’سعید بن محمد الوراق‘‘ سخت ضعیف ہے، بلکہ بعض کے نزدیک متروک الحدیث راوی ہے)