سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي الْمِنْحَةِ باب: عطیہ دینے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَال : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ لَبَنٍ أَوْ وَرِقٍ أَوْ هَدَى زُقَاقًا كَانَ لَهُ مِثْلَ عِتْقِ رَقَبَةٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَى مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، هَذَا الْحَدِيثَ ، وَفِي الْبَابِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ : " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ وَرِقٍ " إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ : قَرْضَ الدَّرَاهِمِ ، قَوْلُهُ : " أَوْ هَدَى زُقَاقًا " يَعْنِي بِهِ : هِدَايَةَ الطَّرِيقِ .´براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس شخص نے دودھ کا عطیہ دیا ۱؎ ، یا چاندی قرض دی ، یا کسی کو راستہ بتایا ، اسے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث ابواسحاق کی روایت سے جسے وہ طلحہ بن مصرف سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- منصور بن معتمر اور شعبہ نے بھی اس حدیث کی روایت طلحہ بن مصرف سے کیا ہے ، ۳- اس باب میں نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے ، ۴- «من منح منيحة ورق» کا مطلب ہے بطور قرض دینا «هدى زقاقا» کا مطلب ہے راستہ دکھانا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” جس شخص نے دودھ کا عطیہ دیا ۱؎، یا چاندی قرض دی، یا کسی کو راستہ بتایا، اسے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1957]
وضاحت: 1؎: کسی کو اونٹ، گائے یابکری دیا تاکہ وہ دودھ سے فائدہ اٹھائے اورپھر جانورواپس کردے۔