سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي أَدَبِ الْوَلَدِ باب: لڑکے کو ادب سکھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1951
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنْ نَاصِحٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَنَاصِحٌ هُوَ ابْنُ الْعَلَاءِ كُوفِيٌّ لَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِالْقَوِيِّ ، وَلَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَنَاصِحٌ شَيْخٌ آخَرُ بَصْرِيٌّ ، يَرْوِي عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، وَغَيْرِهِ ، هُوَ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے لڑکے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ دینے سے بہتر ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- راوی ناصح کی کنیت ابوالعلا ہے ، اور یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں ، محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں ، یہ حدیث صرف اسی سند سے معروف ہے ، ۳- ناصح ایک دوسرے شیخ بھی ہیں جو بصرہ کے رہنے والے ہیں ، عمار بن ابوعمار وغیرہ سے حدیث روایت کرتے ہیں ، اور یہ ان سے زیادہ قوی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´لڑکے کو ادب سکھانے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنے لڑکے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ دینے سے بہتر ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1951]
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنے لڑکے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ دینے سے بہتر ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1951]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’ناصح‘‘ ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں ’’ناصح‘‘ ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1951 سے ماخوذ ہے۔