سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي أَدَبِ الْخَادِمِ باب: خادم کے ساتھ سلوک کرنے کے آداب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1950
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ : عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَأَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ اسْمُهُ عُمَارَةُ بْنُ جُوَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ ، قَالَ لعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ : قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : ضَعَّفَ شُعْبَةُ أَبَا هَارُونَ الْعَبْدِيَّ ، قَالَ يَحْيَى : وَمَا زَالَ ابْنُ عَوْنٍ يَرْوِي عَنْ أَبِي هَارُونَ حَتَّى مَاتَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے اور وہ ( خادم ) اللہ کا نام لے لے تو تم اپنے ہاتھوں کو روک لو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : راوی ابوہارون عبدی کا نام عمارہ بن جوین ہے ، ابوبکر عطار نے یحییٰ بن سعید کا یہ قول نقل کیا کہ شعبہ نے ابوہارون عبدی کی تضعیف کی ہے ، یحییٰ کہتے ہیں : ابن عون ہمیشہ ابوہارون سے روایت کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خادم کے ساتھ سلوک کرنے کے آداب کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے اور وہ (خادم) اللہ کا نام لے لے تو تم اپنے ہاتھوں کو روک لو۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1950]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے اور وہ (خادم) اللہ کا نام لے لے تو تم اپنے ہاتھوں کو روک لو۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1950]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’ابوہارون عمارۃ بن جوین عبدی‘‘ متروک الحدیث راوی ہے)
نوٹ:
(سند میں ’’ابوہارون عمارۃ بن جوین عبدی‘‘ متروک الحدیث راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1950 سے ماخوذ ہے۔