حدیث نمبر: 1929
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ مِرْآةُ أَخِيهِ ، فَإِنْ رَأَى بِهِ أَذًى فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر آدمی اپنے بھائی کے لیے آئینہ ہے ، اگر وہ اپنے بھائی کے اندر کوئی عیب دیکھے تو اسے ( اطلاع کے ذریعہ ) دور کر دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- شعبہ نے یحییٰ بن عبیداللہ کو ضعیف کہا ہے ، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1929
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا، الضعيفة (1889) // ضعيف الجامع الصغير (1371) // , شیخ زبیر علی زئی: (1929) إسناده ضعيف جدًا, يحيي بن عبيدالله: متروك وأفحش الحاكم فرماه بالوضع (تق: 7599) وقال الھيثمي : وقد ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 319/10) وحديث أبى داود(4918) يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 14121) (ضعیف جداً) (سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک الحدیث راوی ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر شفقت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی اپنے بھائی کے لیے آئینہ ہے، اگر وہ اپنے بھائی کے اندر کوئی عیب دیکھے تو اسے (اطلاع کے ذریعہ) دور کر دے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1929]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک الحدیث راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1929 سے ماخوذ ہے۔