حدیث نمبر: 1921
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا ، وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا ، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا ، يَقُولُ : لَيْسَ مِنْ سُنَّتِنَا ، لَيْسَ مِنْ أَدَبِنَا ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ : قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يُنْكِرُ هَذَا التَّفْسِيرَ : لَيْسَ مِنَّا ، يَقُولُ : لَيْسَ مِلَّتِنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے ، معروف ( بھلی باتوں ) کا حکم نہ دے اور منکر ( بری باتوں ) سے منع نہ کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- محمد بن اسحاق کی عمرو بن شعیب کے واسطہ سے مروی حدیث صحیح ہے ، ۳- عبداللہ بن عمرو سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول «ليس منا» کا مفہوم یہ ہے «ليس من سنتنا ليس من أدبنا» یعنی وہ ہمارے طور طریقہ پر نہیں ہے ، ۵- علی بن مدینی کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید نے کہا : سفیان ثوری اس تفسیر کی تردید کرتے تھے اور اس کا مفہوم یہ بیان کرتے تھے کہ «ليس منا» سے مراد «ليس من ملتنا» ہے ، یعنی وہ ہماری ملت کا نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1921
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (4970) ، التعليق الرغيب (3 / 173) // ضعيف الجامع الصغير (4938) // , شیخ زبیر علی زئی: (1921) إسناده ضعيف, ليث بن أبى سليم ضعيف (تقدم:218) ولبعض الحديث شواھد
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 6207) ، و مسند احمد (1/257) (ضعیف) (سند میں لیث بن أبي سلیم اور شریک القاضي دونوں ضعیف ہیں، مگر پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں، دیکھیے پچھلی دونوں حدیثیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بچوں پر مہربانی کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے، معروف (بھلی باتوں) کا حکم نہ دے اور منکر (بری باتوں) سے منع نہ کرے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1921]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں لیث بن أبي سلیم اور شریک القاضي دونوں ضعیف ہیں، مگر پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں، دیکھیے پچھلی دونوں حدیثیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1921 سے ماخوذ ہے۔