سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الصِّبْيَانِ باب: بچوں پر مہربانی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1920
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيرِنَا " .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا مقام نہ پہچانے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 597 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
597-سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے حق کو پہچانتا نہیں ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:597]
فائدہ:
اس حدیث میں چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کے احترام اور ان کے حقوق پورے کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ” کبیر“ سے عمر یا علم کے لحاظ سے بڑا شخص مراد ہے۔ بعض احادیث میں علماء کا بھی ذکر ہے۔
اس حدیث میں چھوٹوں پر شفقت، بڑوں کے احترام اور ان کے حقوق پورے کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ” کبیر“ سے عمر یا علم کے لحاظ سے بڑا شخص مراد ہے۔ بعض احادیث میں علماء کا بھی ذکر ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 597 سے ماخوذ ہے۔