سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الصِّبْيَانِ باب: بچوں پر مہربانی کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ زَرْبِيٍّ، قَال : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ : جَاءَ شَيْخٌ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَبْطَأَ الْقَوْمُ عَنْهُ أَنْ يُوَسِّعُوا لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَزَرْبِيٌّ لَهُ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ .´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک بوڑھا آیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہتا تھا ، لوگوں نے اسے راستہ دینے میں دیر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- راوی زربی نے انس بن مالک اور دوسرے لوگوں سے کئی منکر حدیثیں روایت کی ہیں ، ۳- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ، ابوہریرہ ، ابن عباس اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک بوڑھا آیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہتا تھا، لوگوں نے اسے راستہ دینے میں دیر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1919]
نوٹ:
(شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’زربی‘‘ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: 2196)