سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الْيَتِيمِ وَكَفَالَتِهِ باب: یتیموں پر مہربانی اور ان کی کفالت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَبَضَ يَتِيمًا بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ الْبَتَّةَ إِلَّا أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ لَهُ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ مُرَّةَ الْفِهْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَنَشٌ هُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ ، وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، يَقُولُ : حَنَشٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ .´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی مسلمان یتیم کو اپنے ساتھ رکھ کر انہیں کھلائے پلائے ، تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ، سوائے اس کے کہ وہ ایسا گناہ ( شرک ) کرے جو مغفرت کے قابل نہ ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- راوی حنش کا نام حسین بن قیس ہے ، کنیت ابوعلی رحبی ہے ، سلیمان تیمی کہتے ہیں : یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں ، ۲- اس باب میں مرہ فہری ، ابوہریرہ ، ابوامامہ اور سہل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی مسلمان یتیم کو اپنے ساتھ رکھ کر انہیں کھلائے پلائے، تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، سوائے اس کے کہ وہ ایسا گناہ (شرک) کرے جو مغفرت کے قابل نہ ہو۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1917]
نوٹ:
(سند میں ’’حنش‘‘ یعنی حسین بن قیس' متروک الحدیث ہے)