حدیث نمبر: 1912
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَكُونُ لِأَحَدِكُمْ ثَلَاثُ بَنَاتٍ ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِنَّ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، وَأَنَسٍ ، وَجَابِرٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ هُوَ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ وُهَيْبٍ ، وَقَدْ زَادُوا فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہو گا ۔‏‏‏‏“
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابو سعید خدری کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے ، اور سعد بن ابی وقاص کا نام سعد بن مالک بن وہیب ہے ، ۲- اس حدیث کی دوسری سند میں راویوں نے ( سعید بن عبدالرحمٰن اور ابوسعید کے درمیان ) ایک اور راوی ( ایوب بن بشیر ) کا اضافہ کیا ہے ، ۳- اس باب میں عائشہ ، عقبہ بن عامر ، انس ، جابر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1912
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف انظر ما قبله (1911) // ضعيف الجامع الصغير (6369) // , شیخ زبیر علی زئی: (1912) إسناده ضعيف, السند منقطع والحديث الآتي (الأصل : 1916) يغني عنه
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأدب 130 (5147) ( تحفة الأشراف : 4041) ، و یأتي برقم 1916 (صحیح) (اس کے راوی سعید بن عبدالرحمن الأعشی مقبول راوی ہیں، اور اس باب میں وارد احادیث کی بنا پر یہ صحیح ہے، جس کی طرف امام ترمذی نے اشارہ کر دیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب 1973، و الادب المفرد باب من أعلى جاريتين أو واحدة والباب الذي بعده، وتراجع الالبانی 409، والسراج المنیر 2/1049)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1916 | سنن ابي داود: 5147 | مسند الحميدي: 755

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´لڑکیوں اور بہنوں کی پرورش کی فضیلت کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1912]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی سعید بن عبدالرحمن الأعشی مقبول راوی ہیں، اور اس باب میں وارد احادیث کی بنا پر یہ صحیح ہے، جس کی طرف امام ترمذی نے اشارہ کردیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: 1973، والأدب المفرد، باب من أعلى جاريتين أو واحدة والباب الذي بعده، وتراجع الألباني: 409، والسراج المنیر: 2/ 1049)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1912 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1916 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´لڑکیوں اور بہنوں کی پرورش کی فضیلت کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس تین لڑکیاں، یا تین بہنیں، یا دو لڑکیاں، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1916]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: یعنی: ضعیف ہے۔

نوٹ:
(ملاحظہ ہو: حدیث رقم: 1912، وصحیح الترغیب: 1973)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1916 سے ماخوذ ہے۔