سنن ترمذي
كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
باب مَا جَاءَ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ باب: قطع رحمی (ناتا توڑنے) پر وارد وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ : اشْتَكَى أَبُو الرَّدَّادِ اللَّيْثِيُّ ، فَعَادَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَقَالَ : خَيْرُهُمْ وَأَوْصَلُهُمْ مَا عَلِمْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ : " أَنَا اللَّهُ ، وَأَنَا الرَّحْمَنُ ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ ، وَشَقَقْتُ لَهَا مِنَ اسْمِي ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ ، وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ " ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى ، وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ رَدَّادٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَمَعْمَرٍ كَذَا يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدٌ ، وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ خَطَأٌ .´ابوسلمہ کہتے ہیں کہ` ابوالرداد لیثی بیمار ہو گئے ، عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ ان کی عیادت کو گئے ، ابوالرداء نے کہا : میرے علم کے مطابق ابو محمد ( عبدالرحمٰن بن عوف ) لوگوں میں سب سے اچھے اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں ، عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : میں اللہ ہوں ، میں رحمن ہوں ، میں نے «رحم» ( یعنی رشتے ناتے ) کو پیدا کیا ہے ، اور اس کا نام اپنے نام سے ( مشتق کر کے ) رکھا ہے ، اس لیے جو اسے جوڑے گا میں اسے ( اپنی رحمت سے ) جوڑے رکھوں گا اور جو اسے کاٹے گا میں بھی اسے ( اپنی رحمت سے ) کاٹ دوں گا ۔“
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ابو سعید خدری ، ابن ابی اوفی ، عامر بن ربیعہ ، ابوہریرہ اور جبیر بن مطعم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۲- زہری سے مروی سفیان کی حدیث صحیح ہے ، معمر نے زہری سے یہ حدیث «عن أبي سلمة عن رداد الليثي عن عبدالرحمٰن بن عوف و معمر» کی سند سے روایت کی ہے ، معمر نے ( سند بیان کرتے ہوئے ) ایسا ہی کہا ہے ، محمد ( بخاری ) کہتے ہیں : معمر کی حدیث میں خطا ہے ، ( دونوں سندوں میں فرق واضح ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوالرداد لیثی بیمار ہو گئے، عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ ان کی عیادت کو گئے، ابوالرداء نے کہا: میرے علم کے مطابق ابو محمد (عبدالرحمٰن بن عوف) لوگوں میں سب سے اچھے اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: میں اللہ ہوں، میں رحمن ہوں، میں نے «رحم» (یعنی رشتے ناتے) کو پیدا کیا ہے، اور اس کا نام اپنے نام سے (مشتق کر کے) رکھا ہے، اس لیے جو اسے جوڑے گا میں اسے (اپنی رحمت سے) جوڑے رکھوں گا اور جو اسے کاٹے گا میں بھی ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1907]
وضاحت:
1؎:
سند میں ابوالرداد ہے، اور امام ترمذی کے کلام میں نیچے ’’رداد‘‘ آیا ہے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ ’’رداد‘‘ کو بعض لوگوں نے ’’ابوالرداد‘‘ کہا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے، (تقریب التہذیب)
صلۂ رحمی کی اہمیت و فضیات ثابت ہوتی ہے، آج کل صلۂ رحمی کا یہ مطلب سمجھا جاتا ہے کہ جو آپ سے رشتہ داری جوڑ نا چاہے، آپ بھی اس سے رشتہ داری جوڑ لیں، حالانکہ صلہ رحمی میں یہ صورت بھی شامل ہے، البتہ دوسری صورت جو اس سے بھی کئی گنا اہم ہے، وہ بھی شامل ہے اور وہ یہ ہے کہ جو آپ سے رشتہ داری توڑنا چا ہے، آپ پھر بھی اس سے رشتہ داری قائم کر یں۔ لفظ رحم’’رحمٰن‘‘ سے ہے، اور لفظ ’’رحمٰن‘‘ اللہ تعالی کا نام ہے۔