حدیث نمبر: 1907
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ : اشْتَكَى أَبُو الرَّدَّادِ اللَّيْثِيُّ ، فَعَادَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَقَالَ : خَيْرُهُمْ وَأَوْصَلُهُمْ مَا عَلِمْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ : " أَنَا اللَّهُ ، وَأَنَا الرَّحْمَنُ ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ ، وَشَقَقْتُ لَهَا مِنَ اسْمِي ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ ، وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ " ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى ، وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَى مَعْمَرٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ رَدَّادٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَمَعْمَرٍ كَذَا يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدٌ ، وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ خَطَأٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوسلمہ کہتے ہیں کہ` ابوالرداد لیثی بیمار ہو گئے ، عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ ان کی عیادت کو گئے ، ابوالرداء نے کہا : میرے علم کے مطابق ابو محمد ( عبدالرحمٰن بن عوف ) لوگوں میں سب سے اچھے اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں ، عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : میں اللہ ہوں ، میں رحمن ہوں ، میں نے «رحم» ( یعنی رشتے ناتے ) کو پیدا کیا ہے ، اور اس کا نام اپنے نام سے ( مشتق کر کے ) رکھا ہے ، اس لیے جو اسے جوڑے گا میں اسے ( اپنی رحمت سے ) جوڑے رکھوں گا اور جو اسے کاٹے گا میں بھی اسے ( اپنی رحمت سے ) کاٹ دوں گا ۔‏‏‏‏“
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ابو سعید خدری ، ابن ابی اوفی ، عامر بن ربیعہ ، ابوہریرہ اور جبیر بن مطعم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۲- زہری سے مروی سفیان کی حدیث صحیح ہے ، معمر نے زہری سے یہ حدیث «عن أبي سلمة عن رداد الليثي عن عبدالرحمٰن بن عوف و معمر» کی سند سے روایت کی ہے ، معمر نے ( سند بیان کرتے ہوئے ) ایسا ہی کہا ہے ، محمد ( بخاری ) کہتے ہیں : معمر کی حدیث میں خطا ہے ، ( دونوں سندوں میں فرق واضح ہے ) ۔

وضاحت:
۱؎: یہ باپ کے احسان کا بدلہ اس لیے ہے کہ غلامی کی زندگی سے کسی کو آزاد کرانا اس سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں ہے، جس کے ذریعہ کوئی کسی دوسرے پر احسان کرے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1907
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (520)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الزکاة 46 (1694) ( تحفة الأشراف : 9728) ، و مسند احمد (1/191، 194) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1694 | مسند الحميدي: 65

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قطع رحمی (ناتا توڑنے) پر وارد وعید کا بیان۔`
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوالرداد لیثی بیمار ہو گئے، عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ ان کی عیادت کو گئے، ابوالرداء نے کہا: میرے علم کے مطابق ابو محمد (عبدالرحمٰن بن عوف) لوگوں میں سب سے اچھے اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: میں اللہ ہوں، میں رحمن ہوں، میں نے «رحم» (یعنی رشتے ناتے) کو پیدا کیا ہے، اور اس کا نام اپنے نام سے (مشتق کر کے) رکھا ہے، اس لیے جو اسے جوڑے گا میں اسے (اپنی رحمت سے) جوڑے رکھوں گا اور جو اسے کاٹے گا میں بھی ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1907]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سند میں ابوالرداد ہے، اور امام ترمذی کے کلام میں نیچے ’’رداد‘‘ آیا ہے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ ’’رداد‘‘ کو بعض لوگوں نے ’’ابوالرداد‘‘ کہا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے، (تقریب التہذیب)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1907 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 65 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
65- ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: ابورداد بیمار ہوگئے، تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کرنے کے لیے آئے ابورداد نے کہا: میرے علم کے مطابق لوگوں میں سب سے زیادہ بہتر اور سب سے زیادہ رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھنے والے ابومحمد ہیں۔ تو سیدنا عبدارحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میں اللہ ہوں، میں رحمٰن ہوں، میں نے رحم (رشتہ داری) کو پیدا کیا ہے اور میں نے اس کا نام اپنے نام کے مطابق رکھا ہے، تو جو شخص اسے ملائے گا میں اس ملا کر رکھوں گا اور جو شخص اسے کاٹے گا میں اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:65]
فائدہ:
صلۂ رحمی کی اہمیت و فضیات ثابت ہوتی ہے، آج کل صلۂ رحمی کا یہ مطلب سمجھا جاتا ہے کہ جو آپ سے رشتہ داری جوڑ نا چاہے، آپ بھی اس سے رشتہ داری جوڑ لیں، حالانکہ صلہ رحمی میں یہ صورت بھی شامل ہے، البتہ دوسری صورت جو اس سے بھی کئی گنا اہم ہے، وہ بھی شامل ہے اور وہ یہ ہے کہ جو آپ سے رشتہ داری توڑنا چا ہے، آپ پھر بھی اس سے رشتہ داری قائم کر یں۔ لفظ رحم’’رحمٰن‘‘ سے ہے، اور لفظ ’’رحمٰن‘‘ اللہ تعالی کا نام ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 65 سے ماخوذ ہے۔