حدیث نمبر: 1904
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْرَائِيلَ . ح قَالَ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ وَهُوَ ابْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ " ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خالہ ماں کے درجہ میں ہے “ ، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے ۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا عَظِيمًا ، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٌ ؟ قَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : هَلْ لَكَ مِنْ خَالَةٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَبِرَّهَا " ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھ سے بہت بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے ، کیا میرے لیے توبہ کی گنجائش ہے ؟ آپ نے پوچھا : ” کیا تمہاری ماں زندہ ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے پوچھا : تمہاری کوئی خالہ ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” اس کے ساتھ حسن سلوک کرو ۔‏‏‏‏“
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں علی اور براء بن عازب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ هُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، لیکن اس میں ابن عمر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے ، یہ ابومعاویہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1904
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (2190)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الصلح 6 (2699) ، والمغازي 43 (4241) (في کلا الوضعین في سیاق طویل) ( تحفة الأشراف : 1803) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خالہ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان۔`
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " خالہ ماں کے درجہ میں ہے "، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1904]
اردو حاشہ:
نوٹ:

حدیث کے آخری الفاظ مرسل ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1904 سے ماخوذ ہے۔