حدیث نمبر: 1903
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أَسِيدٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” سب سے بہتر سلوک اور سب سے اچھا برتاؤ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ سند صحیح ہے ، یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما سے کئی سندوں سے آئی ہے ، ۲- اس باب میں ابواسید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1903
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الضعيفة (2089)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البر والصلة 4 (2552) ، سنن ابی داود/ الأدب 129 (5143) ، ( تحفة الأشراف : 7259) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2552 | سنن ابي داود: 5143

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2552 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
عبداللہ بن دینار رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جب وہ مکہ کے سفر پر روانہ ہوئے تو ان کے ساتھ ایک گدھا ہوتا،جب وہ اونٹ کی سواری سے اکتا جاتے تو اس پر سوارہوکر آرام حاصل کرتے اورایک پگڑی تھی،جسے اپنے سرپر باندھتے تھے،ایک دن وہ اس گدھے پر سوار تھے کہ اس دوران،ان کے پاس سے ایک بدوی گزرا،چنانچہ انہوں نے پوچھا،کیاتم فلان بن فلان کے بیٹے نہیں ہو،اس نے کہا،کیوں نہیں تو انہوں نے اسے اپناگدھا دے دیا اورفرمایا،اس پر سوار ہوجا اور پگڑی دی کہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6515]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
يتروح عليه: اس پر راحت و سکون حاصل کرتے۔
(2)
بعد ان يولي: جب وہ پشت پھیر جائے، غائب ہو یا فوت ہو جائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2552 سے ماخوذ ہے۔