حدیث نمبر: 19
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ البصري , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَسْتَطِيبُوا بِالْمَاءِ فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ " . وَفِي الْبَاب عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ , وَأَنَسٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ : يَخْتَارُونَ الِاسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ ، وَإِنْ كَانَ الِاسْتِنْجَاءُ بِالْحِجَارَةِ يُجْزِئُ عِنْدَهُمْ ، فَإِنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الِاسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ وَرَأَوْهُ أَفْضَلَ ، وَبِهِ يَقُولُ : سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , وَابْنُ الْمُبَارَكِ , وَالشَّافِعِيُّ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کیا کریں ، میں ان سے ( یہ بات کہتے ) شرما رہی ہوں ، کیونکہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں جریر بن عبداللہ بجلی ، انس ، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے ۱؎ ، وہ پانی سے استنجاء کرنے کو پسند کرتے ہیں اگرچہ پتھر سے استنجاء ان کے نزدیک کافی ہے پھر بھی پانی سے استنجاء کو انہوں نے مستحب اور افضل قرار دیا ہے ۔ سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد ، اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: یہاں بار بار آپ احادیث میں یہ جملہ پڑھ رہے ہیں: اسی پر اہل علم کا عمل ہے، تو اہل علم سے مراد محدثین فقہاء اور قرآن وسنت کا صحیح فہم رکھنے والے لوگ ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 19
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (42)
تخریج حدیث «سنن النسائی/الطہارة 41 (46) ( تحفة الأشراف : 17970) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 46

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کیا کریں، میں ان سے (یہ بات کہتے) شرما رہی ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 19]
اردو حاشہ:
1؎:
یہاں بار بار آپ احادیث میں یہ جملہ پڑھ رہے ہیں: اسی پر اہل علم کا عمل ہے، تو اہل علم سے مراد محدّثین فقہاء اور قرآن و سنت کا صحیح فہم رکھنے والے لوگ ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 19 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 46 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کریں، کیونکہ میں ان سے یہ کہنے میں شرماتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 46]
46۔ اردو حاشیہ: اس حدیث سے بھی یہی مسئلہ اخذ ہوتا ہے کہ پانی سے استنجا کرنا افضل ہے کیونکہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی عادت مبارکہ یہی تھی، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف پانی سے استنجا کرنا مکروہ نہیں ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (فتح الباري: 329/1، تحت حدیث: 150)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 46 سے ماخوذ ہے۔