حدیث نمبر: 1899
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنّ لِيَ امْرَأَةً ، وَإِنَّ أُمِّي تَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا ، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْهُ " ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ : إِنَّ أُمِّي ، وَرُبَّمَا قَالَ أَبِي ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک آدمی نے ان کے پاس آ کر کہا : میری ایک بیوی ہے ، اور میری ماں اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے ، ( میں کیا کروں ؟ ) ابوالدرداء رضی الله عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے ، اگر تم چاہو تو اس دروازہ کو ضائع کر دو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو “ ۱؎ ۔ سفیان بن عیینہ نے کبھی «إن امی» ( میری ماں ) کہا اور کبھی «إن أبی» ( میرا باپ ) کہا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی ماں باپ کے حقوق کی حفاظت کی جائے اور اس کا خاص خیال رکھا جائے، اگر والد کو جنس مان لیا جائے تو ماں باپ دونوں مراد ہوں گے، یا حدیث کا یہ مفہوم ہے کہ والد کے مقام و مرتبہ کا یہ عالم ہے تو والدہ کے مقام کا کیا حال ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1899
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (910) ، المشكاة (4928 / التحقيق الثانى)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الطلاق 36 (2989) ، والأدب 1 (3663) ، ( تحفة الأشراف : 10948) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2089 | سنن ابن ماجه: 3663 | مسند الحميدي: 399

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2089 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اگر باپ بیٹے کو کہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو تو اس کے حکم کا بیان۔`
ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص کو اس کی ماں نے یا باپ نے (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے، اس نے نذر مان لی کہ اگر اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو اسے سو غلام آزاد کرنا ہوں گے، پھر وہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھ رہے تھے، اور اسے خوب لمبی کر رہے تھے، اور انہوں نے نماز پڑھی ظہر و عصر کے درمیان، بالآخر اس شخص نے ان سے پوچھا، تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی نذر پوری کرو، اور اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2089]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
والدین کی خدمت و اطاعت جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔

(2)
والدین کو خوش رکھنا جنت میں جانے بہترین ذریعہ ہے۔

(3)
مومن کو جنت کی بہت خواہش ہوتی ہے، اس لیے والدین کی اطاعت کا بہت خیال رکھنا چاہیے تا کہ جنت مل سکے۔
4: والدین اگر کسی ایسے کام كاحکم دیں جو شرعاً جائز ہو تو اس کی تعمیل کرنی چاہیے، خواہ وہ دل کو ناگوار ہی لگے، لیکن والدین کو بھی چاہیے کہ اولاد کے جائز جذبات كا لحاظ رکھیں۔

(5)
صحابہ کرام نفلی عبادات کا بہت شوق رکھتے تھے، اسی لیے برداشت کے مطابق نفلی عبادات کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہیے بشرطیکہ اس سے حقوق العباد میں خلل نہ پڑے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2089 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3663 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان۔`
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے تم اس دروازے کو ضائع کر دو، یا اس کی حفاظت کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3663]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
والد کی خدمت جنت میں داخل ہونے کا اہم ذریعہ ہے۔

(2)
ضائع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر والد کو ناراض کرو گے تو تمہارے لیے جنت کا دروازہ نہیں کھلے گا اس طرح تم جنت کا دروازہ کھو بیٹھو گے۔

(3)
محفوظ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ والد کو خوش کرو گے تو جنت کا دروازہ تمہارے لیے ضرور کھل جائے گا۔

(4)
اگر والد کسی ایسے کام کا حکم دے جس میں اللہ کی ناراضی ہے تو والد کی اطاعت کرنا جائز نہیں البتہ اس صورت میں بھی والد کی خدمت اور احترام ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3663 سے ماخوذ ہے۔