سنن ترمذي
كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ أَىُّ الشَّرَابِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا۔
حدیث نمبر: 1896
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ : أَيُّ الشَّرَابِ أَطْيَبُ ؟ قَالَ : الْحُلْوُ الْبَارِدُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلا ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زہری سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سا مشروب بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” میٹھا اور ٹھنڈا مشروب “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اسی طرح عبدالرزاق نے بھی معمر سے ، معمر نے زہری سے اور زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مرسلاً روایت کی ہے ، ۲- یہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا۔`
زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا مشروب بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ” میٹھا اور ٹھنڈا مشروب۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1896]
زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا مشروب بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ” میٹھا اور ٹھنڈا مشروب۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1896]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(زہری تابعی ہے ان کی روایت نبی اکرمﷺ سے مرسل ہے، اور زہری کی مراسیل کو سب سے خراب مرسل کا درجہ علما ء نے دیاہے، لیکن اس سے پہلے کی حدیث میں زہری نے بسند عروہ ام المومنین عائشہ سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے صحیح ہے)
نوٹ:
(زہری تابعی ہے ان کی روایت نبی اکرمﷺ سے مرسل ہے، اور زہری کی مراسیل کو سب سے خراب مرسل کا درجہ علما ء نے دیاہے، لیکن اس سے پہلے کی حدیث میں زہری نے بسند عروہ ام المومنین عائشہ سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1896 سے ماخوذ ہے۔