حدیث نمبر: 1887
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَيُّوبَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمُثَنَّى الْجُهَنِيَّ يَذْكُرُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشُّرْبِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : الْقَذَاةُ أَرَاهَا فِي الْإِنَاءِ ، قَالَ : " أَهْرِقْهَا " ، قَالَ : فَإِنِّي لَا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ ، قَالَ : " فَأَبِنْ الْقَدَحَ إِذَنْ عَنْ فِيكَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کی چیز میں پھونکنے سے منع فرمایا ، ایک آدمی نے عرض کیا : برتن میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھوں تو کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” اسے بہا دو ، اس نے عرض کیا : میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہو پاتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” تب ( سانس لیتے وقت ) پیالہ اپنے منہ سے ہٹا لو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1887
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، الصحيحة (385)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4436) (حسن) (الصحیحة 385)»