سنن ترمذي
كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
باب مَا ذُكِرَ مِنَ الشُّرْبِ بِنَفَسَيْنِ باب: دو سانس میں پینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ : وَسَأَلْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ ، قُلْتُ : هُوَ أَقْوَى أَمْ مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ؟ ، فَقَالَ : مَا أَقْرَبَهُمَا وَرِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ أَرْجَحُهُمَا عِنْدِي ، قَالَ : وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا ، فَقَالَ : مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ أَرْجَحُ مِنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ وَالْقَوْلُ عِنْدِي مَا قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ أَرْجَحُ وَأَكْبَرُ ، وَقَدْ أَدْرَكَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَرَآهُ وَهُمَا أَخَوَانِ وَعِنْدَهُمَا مَنَاكِيرُ .´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیتے تھے تو دو سانس میں پیتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- ہم اسے صرف رشدین بن کریب کی روایت سے جانتے ہیں ، ۳- میں نے ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی سے رشدین بن کریب کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا : وہ زیادہ قوی ہیں یا محمد بن کریب ؟ انہوں نے کہا : دونوں ( رتبہ میں ) بہت ہی قریب ہیں ، اور میرے نزدیک رشدین بن کریب زیادہ راجح ہیں ، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : محمد بن کریب ، رشدین بن کریب سے زیادہ راجح ہیں ، ۵- میرے نزدیک ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کی بات زیادہ صحیح ہے کہ رشدین بن کریب زیادہ راجح اور بڑے ہیں ، انہوں نے ابن عباس کو پایا ہے اور انہیں دیکھا ہے ، یہ دونوں بھائی ہیں ان دونوں سے منکر احادیث بھی مروی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیتے تھے تو دو سانس میں پیتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة/حدیث: 1886]
نوٹ:
(سند میں رشدین بن کریب ضعیف ہیں)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3728]
1۔
افضل یہ ہے کہ انسان تین سانس میں پیے اور برتن کومنہ سے الگ کرکے سانس لے۔
2۔
کھانے پینے کی چیز میں پھونک مارنا بھی جائز نہیں۔
اگر کھانا یا مشروب زیادہ گرم ہو تو انتظار کرلے اور ٹھنڈا کرکے کھائے پئے۔
اس طرح اگر کوئی تنکا وغیرہ اس میں گرا پڑا ہوتو ہاتھ سے نکال لے پھونک نہ مارے۔
3۔
بعض علماء تبرک کےلئے قرآن کریم یا کوئی دعا پڑھ کے دم کرنے کو بھی ناجائز کہتے ہیں۔
جب کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ اور مسنون ادعیہ پڑھنے سے اس میں کچھ تاثیر پیدا ہوجاتی ہے۔
اس لئے وہ دم کرکے پھونک مارنے کو ممنوع نفخ میں شامل نہیں کرتے۔
بلکہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔
(تفصیل کےلئے حدیث نمبر 3722۔
کے فوائد ومسائل دیکھیں)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3428]
فوائد و مسائل:
پانی دودھ یا کوئی اور مشروب پیتے ہوئے سانس لینے کی ضرورت ہو تو برتن منہ سے ہٹا کر سانس لینا چاہیے پھر دوبارہ حسب ضرورت پی لیا جائے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کی چیزوں میں نہ پھونک مارتے تھے، اور نہ ہی برتن کے اندر سانس لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3288]
فوائد و مسائل:
(1)
یہ حدیث صحیح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے برتن میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔ (دیکھیے ابن ماجہ حدیث: 3429)
(2)
حضرت ابو سعید ؓ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پینے کی چیز میں پھونک مارنے سےمنع فرمایا۔
ایک شخص نے کہا: اگر برتن میں کوئی ناپسندیدہ چیز (تنکا وغیرہ)
نظر آ جائے تو؟ آپ نے فرمایا: اسے انڈیل دو۔ (تھوڑا سا پانی انڈیل دو تاکہ وہ بھی نکل جائے)
اس نے کہا: میں ایک سانس سے (پیتا ہوں تو)
سیر نہیں ہوتا۔
فرمایا: پیالے کومنہ سے ہٹا لیا کرو۔ (جامع الترمذي، الأشرية، باب ماجاء في كراهية النفخ في الشراب، حديث: 1887)
اس سے معلوم ہوا کہ برتن کو منہ سے ہٹا کر سانس لینا چاہیے۔